ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

مدارس بل پر ہمیں حکومت کی کوئی تجویز قبول نہیں، مولانا فضل الرحمن

Constitution of Pakistan

چارسدہ: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ) ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کاکہنا   ہے کہ مدارس بل پر کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہونگے،  حکومت کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قبول کرنا تو دور کی بات ہم چمٹے سے بھی پکڑنے کے لیے تیار نہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ مدارس کے بل پر نواز شریف، آصف زرداری، سینیٹ، قومی اسمبلی سب متفق ہوگئے تھے، بل سینیٹ میں پیش ہوا، اسمبلی نے بل پاس کیا مگر صدر نے دستخط  نہیں کیے، صدر نے مدرسہ بل کو اعتراضات کے ساتھ واپس کیوں بھیجا؟

سربراہ جے یو آئی کاکہنا تھا کہ  مفتی تقی عثمانی اور صدر وفاق المدارس کی جانب سے اطلاع آئی کہ انہوں ںے 17دسمبر کو اہم اجلاس طلب کرلیا ہے ہم اپنے فیصلے و اعلان کو اس اجلاس تک روکتے ہیں اس اجلاس کے بعد متفقہ طور پر فیصلے کیے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ  مدارس بل میں ہم نے تمام مدارس کو مکمل آزادی دی ہے کہ وہ کسی بھی وفاقی ادارے کے ساتھ الحاق چاہییں تو کرلیں چاہے وہ 1860ء ایکٹ کے تحت ہو یا وزارت تعلیم، ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہر مدرسہ آزاد ہے تو اعتراض کیسا؟

مولانا فضل الرحمن کاکہنا تھا کہ  حکومت مدارس بل پر سیاست نہ کرے، ہم نے جو باتیں کی قانون کے دائرے میں رہ کر کی ہیں، مدارس بل کو مسترد کرنا افسوسناک بات ہے، ہم نے جب وزارت تعلیم کے تحت رجسٹرڈ ہو کر ان کی بات مانی تو انہوں نے ہم پر ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ایک ڈائریکٹوریٹ مسلط کردیا یعنی وہ ہمیں ماتحت کرنا چاہتے ہیں جبکہ مدارس ان کے ماتحت ہونے کو تیار نہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ  پارلیمنٹ جب اس بل کو پاس کرچکی ہے، تو اس کو مسترد کرنا اچھی بات نہیں، جو چیز طے ہوچکی ہے اسے مستحکم کرنا چاہتے ہیں ہمیں اس وقت تک کے کوئی بھی بات کسی صورت قبول نہیں ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں