ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

صہیونی ریاست ہٹ دھرمی پر قائم، لبنان کو جنگ بندی سے الگ قرار دیدیا

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیل نے ایران کے ساتھ 2 ہفتوں کے لیے جنگ بندی پر مشروط آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اس فیصلے میں لبنان کو شامل نہیں کیا گیا جس سے خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری کردہ سرکاری بیان کے مطابق ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیاں 2 ہفتوں تک روک دی جائیں گی۔

دریں اثنا اسرائیل نے اس جنگ بندی کے لیے چند سخت شرائط عائد کی ہیں۔ ایران کو فوری طور پر آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھولنا ہوگا، تاکہ عالمی تجارت میں حائل رکاوٹیں دور ہو سکیں اور تیل کی ترسیل بلا تعطل جاری رہ سکے۔

اسرائیلی حکام نے مزید کہا کہ ایران کو امریکا، اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک پر کسی بھی قسم کے حملے کرنے سے مکمل گریز کرنا ہوگا۔ ان شرائط کی تکمیل کو ہی جنگ بندی کے قیام کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ اس اعلان میں لبنان کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اسرائیلی قیادت نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی کی یہ پیشکش صرف ایران تک محدود رہے گی اور لبنانی سرحد پر جاری فوجی آپریشن بدستور اپنی پوری شدت کے ساتھ جاری رہے گا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ امریکا کی جانب سے ایران کو جوہری صلاحیت، میزائل پروگرام اور دہشت گردی کے الزامات سے روکنے کی تمام تر کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ ایران کو اسرائیل اپنی قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کو جنگ بندی کے دائرے میں رکھنے اور لبنان کو اس سے خارج کرنے کا اسرائیلی فیصلہ خطے میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتا ہے۔

اس صورتحال سے لبنانی محاذ پر جنگ کے طول پکڑنے اور انسانی بحران میں اضافے کا خدشہ موجود ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں