کراچی: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے سندھ حکومت کی کارکردگی اور صوبائی ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص سندھ حکومت کے کاموں کو شفاف قرار دیتا ہے تو اسے نوبل انعام دیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ بات زمینی حقائق کے بالکل برعکس ہے۔
کراچی میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے شہر کی صورتحال پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی روڈ کراچی منصوبہ ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے اور طویل عرصے سے جاری ترقیاتی کام مکمل نہیں کیے جا رہے، جس کے باعث شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے پاکستان پیپلز پارٹی پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ جماعت ملک کے ’’بزرگوں کی بی ٹیم‘‘ کے طور پر کام کر رہی ہے اور عوامی مسائل کے حل میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ کراچی میں جاری منصوبوں کی سست رفتاری اور عدم تکمیل نے شہری نظام کو مفلوج کر دیا ہے، شہر کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے موجودہ ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی بلدیاتی سطح پر تبدیلی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور کراچی کے میئر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جماعت اسلامی 25 اپریل سے ملک بھر میں رکنیت سازی کی مہم کا آغاز کرے گی تاکہ تنظیمی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور عوامی سطح پر رابطہ بڑھایا جا سکے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے ملک کے معاشی نظام پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جب تک موجودہ نظام برقرار رہے گا اس وقت تک حقیقی بہتری ممکن نہیں۔ ان کے مطابق قرضے حکمران لیتے ہیں مگر ان کی ادائیگی کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے، جو ایک سنگین ناانصافی ہے۔
انہوں نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیویز کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر عدالت کو نوٹس لینا چاہیے اور جماعت اسلامی اس حوالے سے قانونی راستہ اختیار کرے گی۔
بجلی کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدے عوامی مفاد کے منافی ہیں اور ان کے باعث ایسے اخراجات بھی عوام سے وصول کیے جا رہے ہیں جن کی کوئی حقیقی پیداوار نہیں۔ ان کے مطابق توانائی کے شعبے میں کیے گئے یہ معاہدے شفافیت سے محروم ہیں اور ان کا بوجھ براہ راست عوام برداشت کر رہے ہیں۔
تعلیم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں کروڑوں بچے تعلیمی اداروں سے باہر ہیں، جبکہ مہنگے سرکاری اخراجات کے باوجود بنیادی تعلیمی ڈھانچہ کمزور ہوتا جا رہا ہے، وسائل کے باوجود تعلیم کے شعبے میں خاطر خواہ بہتری نہیں لائی جا سکی۔
عالمی امور پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سید علی خامنہ ای سمیت مختلف مقامات پر حملے افسوسناک ہیں اور خطے میں کشیدگی میں اضافہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے غزہ اور لبنان میں جاری صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود عام شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکراتی کوششوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت کا عمل خوش آئند ہے تاہم اس میں طاقت کے توازن اور اعتماد کے فقدان جیسے مسائل موجود ہیں۔ ان کے مطابق امریکا کی عالمی پالیسیوں پر تنہائی کے اثرات واضح ہو رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے مزید کہا کہ خطے میں پاکستان کا کردار نہایت اہم ہے اور علاقائی دفاعی معاہدوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران جیسے ممالک کو مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے تاکہ خطے میں استحکام پیدا کیا جا سکے۔