اسلام آباد: امریکی کمپنی سیکیوریپورٹ نے پاکستان کے اہم ہوائی اڈوں پر جدید سیکیورٹی سسٹم کی تنصیب کے لیے 2.4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی پیشکش کی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کی امریکی انتظامیہ کی جانب سے مکمل حمایت کی گئی ہے تاکہ سرحد پار خطرات کا بروقت سراغ لگایا جا سکے۔
امریکی ناظم الامور نتالی بیکر نے پاکستانی حکام کو لکھے گئے ایک خط میں اس تجویز پر غور کرنے پر زور دیا ہے۔ اس سسٹم میں ایڈوانسڈ پسنجر انفارمیشن اور پسنجر نیم ریکارڈ کی صلاحیت موجود ہوگی، جو ایئرپورٹس پر مسافروں کی جانچ پڑتال کے عمل کو مزید محفوظ اور تیز تر بنائے گی۔
مجوزہ سسٹم کے تحت تمام تر ڈیٹا کی مکمل ملکیت اور کنٹرول پاکستان کے پاس رہے گا، جبکہ کمپنی 24 گھنٹے معاونت اور ٹیکنالوجی کی تربیت بھی فراہم کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک ہزار سے زائد پاکستانی شہریوں کو جدید ترین ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنے کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔
کمپنی نے تجویز دی ہے کہ 25 سالہ معاہدے کے دوران لاگت کی وصولی حکومت کے مقرر کردہ سیکیورٹی سرچارج کے ذریعے کی جائے گی۔ یہ نظام ایف آئی اے کے ماتحت کام کرے گا اور بائیو میٹرک بارڈر مینجمنٹ کے ذریعے انتہائی مطلوب افراد کی نشاندہی میں اہم کردار ادا کرے گا۔
اس سے قبل پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے اسی نوعیت کے نظام کی تنصیب کے عمل پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے شفافیت پر سوالات اٹھائے تھے۔ سینیٹ کمیٹی نے معاملے میں پیپرا رولز کی مبینہ خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تفصیلی ریکارڈ طلب کر رکھا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی سفارت خانے کے ترجمان نے نجی سفارتی رابطوں پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم حکومتی سطح پر اس پیشکش کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے تاحال اس امریکی پیشکش پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
واضح رہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے بھی سرکاری ملکیتی اداروں کو براہ راست ٹھیکے دینے کے عمل کے خاتمے کا مطالبہ کیا جا چکا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کے لیے اس بین الاقوامی پیشکش پر عمل درآمد کے دوران شفافیت کے تقاضوں کو پورا کرنا ایک اہم چیلنج ہوگا۔