واشنگٹن: ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر جیمس کومی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کی دھمکیاں دینے کے الزامات کا سامنا کرتے ہوئے رضاکارانہ طور پر خود کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کر دیا ہے جس کے بعد انہیں وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا۔
استغاثہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ جیمس کومی نے گزشتہ برس سوشل میڈیا پر ایک تصویر شیئر کی جس میں ساحل سمندر پر سیپوں کی مدد سے نمبرز تحریر کیے گئے تھے۔ حکام کے مطابق اس کوڈ کا مقصد ٹرمپ کو راستے سے ہٹانے کی دھمکی دینا تھا۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق سوشل میڈیا پوسٹ میں موجود ہندسوں کو ایک مخصوص سیاسی اشارے کے طور پر دیکھا گیا۔ تفتیشی حکام نے دعویٰ کیا کہ اس کوڈ کا مطلب صدر ٹرمپ کو ہلاک کرنا یا ان کی سیاسی حیثیت کو ختم کرنا ہے جو سنگین نوعیت کا جرم بنتا ہے۔
وفاقی عدالت میں پیشی کے دوران جج نے مختصر کارروائی کے بعد جیمس کومی کو بغیر کسی ضمانتی شرط کے رہا کرنے کا حکم دیا۔ اگرچہ انہیں فی الحال رہا کر دیا گیا ہے، لیکن قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کیس کی مزید سماعت شمالی کیرولائنا کی عدالت میں ہوگی۔
جیمس کومی کے وکلا نے اس تمام کارروائی کو محکمہ انصاف کی انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیس سیاسی بنیادوں پر قائم کیا گیا ہے اور وہ اسے عدالت میں چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے غیر منصفانہ پہلوؤں کو بھی اجاگر کریں گے۔
یاد رہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ جیمس کومی قانونی مشکلات کا شکار ہوئے ہوں۔ اس سے قبل بھی ٹرمپ انتظامیہ کے دوران ان پر کانگریس کے سامنے غلط بیانی کا الزام عائد کیا گیا تھا، تاہم اس وقت عدالت نے وہ تمام الزامات بے بنیاد قرار دے کر خارج کر دیے تھے۔
اس معاملے پر فی الحال کوئی حتمی فرد جرم عائد نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی اگلی پیشی کی تاریخ طے کی گئی ہے، تاہم یہ مقدمہ امریکی سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے کیونکہ ایک اعلیٰ عہدیدار کا یوں پھنسنا غیر معمولی ہے۔