ایران کی پارلیمان کے اسپیکر اور اعلیٰ سطح کے مذاکرات کار باقر قالیباف نے امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے بیانات کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں گمراہ کن اور غیر ذمہ دارانہ قرار دے دیا۔
باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی وزیرِ خزانہ کے بے بنیاد اندازوں نے تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں نرخ 120 ڈالر تک جا پہنچے ہیں اور موجودہ حالات میں یہ مزید بڑھ کر 140 ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ گزشتہ 3 دنوں کے دوران ایرانی تیل کی پیداوار میں کسی قسم کی کمی واقع نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی کنواں خشک ہوا ہے، آئندہ 30 دنوں میں بھی ایسی کوئی صورتحال پیدا ہونے کا امکان نہیں ہے، واشنگٹن میں بیٹھے بعض عہدیداروں کی غیر سنجیدہ رائے نہ صرف زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی بلکہ عالمی منڈی پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔
ایرانی اسپیکر نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ایران اپنے تیل کے کنوؤں کی براہِ راست نشریات بھی دکھا سکتا ہے تاکہ دنیا خود حقیقت کا مشاہدہ کر سکے۔ امریکی حکومت کو ایسے افراد سے غیر سنجیدہ مشورے مل رہے ہیں جو حقیقت سے دور ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کی جانب سے بحری ناکہ بندی جیسے اقدامات کا اصل مقصد ایران کے اندرونی حالات کو متاثر کرنا اور قوم میں تقسیم پیدا کرنا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کا تسلسل نظر آ رہا ہے، جس کے تحت ایران کو شدت پسند اور اعتدال پسند دھڑوں میں تقسیم کر کے دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ معاشی پابندیوں، بحری دباؤ اور میڈیا مہم کے ذریعے ایران کو جھکانے کی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے، تاہم دشمن کے ان عزائم کا مؤثر جواب صرف قومی یکجہتی اور اتحاد کے ذریعے ہی دیا جا سکتا ہے۔ داخلی استحکام ہی بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے کا واحد راستہ ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی وزیرِ خزانہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ممکنہ ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران کی تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہو جائے گی، جس کے باعث نہ صرف پیداوار میں رکاوٹ آئے گی بلکہ اس کے طویل المدتی منفی اثرات بھی سامنے آئیں گے۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں برطانوی خام تیل 4 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق قیمت میں 8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد فی بیرل نرخ 121 ڈالر تک جا پہنچے ہیں، جو عالمی معاشی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔