اسلام آباد:وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں واقع ون کانسٹیٹیوشن ایونیو عمارت میں مجموعی طور پر 253 غیرقانونی اپارٹمنٹس بنائے گئے اور ریاست اس معاملے میں بلاامتیاز کارروائی کے اصول پر قائم ہے، پاکستان میں کہیں بھی ناجائز قبضہ یا تجاوزات ہوں، چاہے وہ امیر طبقے کی ہوں یا غریب کی، قانون کے مطابق سب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے گا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ ریاست کی رٹ قائم کرنا ناگزیر ہے اور جب ریاست یہ فیصلہ کر لے تو پھر کسی کو رعایت نہیں دی جا سکتی، ون کانسٹیٹیوشن ایونیو جیسے حساس اور اہم مقام پر قائم عمارت کے حوالے سے رہائشیوں کو پہلے ہی علم تھا کہ یہ معاملہ متنازع ہے اور 2023 سے نوٹسز جاری کیے جا رہے تھے، جس کے باعث بیشتر اپارٹمنٹس پہلے ہی خالی ہو چکے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ 253 اپارٹمنٹس میں سے 184 خالی تھے جبکہ 69 میں لوگ مقیم تھے، کارروائی کے دوران کسی کی پرائیویسی متاثر نہیں کی گئی، یہ تاثر درست نہیں کہ ریاست نے کسی کے نجی معاملات میں مداخلت کی ہے، بلکہ تمام اقدامات قانونی دائرے میں رہتے ہوئے کیے گئے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کی شاہراہ دستور پر واقع اس عمارت کو خالی کرانے کے لیے رات گئے پولیس کو متحرک کیا گیا اور رہائشیوں کو مقررہ وقت تک اپارٹمنٹس خالی کرنے کی ہدایات دی گئیں۔ پولیس ٹیمیں عمارت کے داخلی راستوں پر تعینات کی گئیں جبکہ متعدد فلیٹس فوری طور پر خالی کر دیے گئے اور باقی رہائشی اپنا سامان منتقل کرتے رہے۔
ذرائع کے مطابق اس عمارت میں اہم سیاسی شخصیات اور بیوروکریٹس کے فلیٹس بھی موجود ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ پہلے ہی سی ڈی اے کی جانب سے لیز منسوخی کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے متعلقہ درخواستیں مسترد کر چکی ہے۔ یاد رہے کہ سی ڈی اے نے 2005 میں 13 ایکڑ زمین ایک نجی کمپنی کو 99 سالہ لیز پر دی تھی، تاہم بعد ازاں اس پر تنازع پیدا ہوا۔
دوسری جانب وزیرِ اعظم کی ہدایت پر اس معاملے کا جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کی سربراہی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کریں گے۔ کمیٹی ایک ہفتے میں جامع رپورٹ پیش کرے گی اور اس دوران متاثرہ فریقین کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
حکومت کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ حتمی فیصلے تک اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے مزید کارروائی سے گریز کریں گے، ریاست کی رٹ قائم رکھنے اور قانون کی بالادستی یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔