ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اگرچہ ثالثی کے لیے متعدد ممالک آمادگی ظاہر کر رہے ہیں، تاہم باضابطہ ثالث کا کردار صرف پاکستان ادا کر رہا ہے، مذاکرات سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ کیا گیا تو اس سے تمام فریقین کو باقاعدہ طور پر آگاہ کیا جائے گا، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس اور چین نے ایران کو بعض مبینہ اشتعال انگیز کارروائیوں سے تحفظ فراہم کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں ترجمان وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کی جانب سے ان کارروائیوں کو دفاعِ خودی کے طور پر پیش کرنا کسی طور بھی قابلِ قبول نہیں اور نہ ہی یہ اقدام بین الاقوامی قانون کے مطابق دفاعی زمرے میں آتا ہے، یہ مؤقف حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا اور زمینی صورتحال کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے مترادف ہے۔
ایرانی ترجمان نے امریکا کے محکمہ خارجہ کے ایک موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے ان حملوں کو اپنے اتحادی اسرائیل کے اجتماعی دفاع اور اپنے دفاع کے حق کے تحت جائز قرار دینے کی کوشش کی ہے۔
اسماعیل بقائی نے اس دلیل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آخر یہ دفاع کس خطرے کے خلاف کیا جا رہا ہے؟ کیا ایران کی جانب سے کسی قسم کا کوئی مسلح حملہ ہوا تھا جس کی بنیاد پر اس کارروائی کو جائز قرار دیا جا سکے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کوئی واقعہ موجود نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف اس نوعیت کی کارروائیوں کو دفاع کہنا حقائق کے منافی ہے کیونکہ یہ براہِ راست ایک خودمختار ریاست کے خلاف جارحانہ اقدام ہے۔ اس طرح کے اقدامات نہ صرف اقوام متحدہ کے چارٹر بلکہ بین الاقوامی قوانین اور عالمی اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
ایرانی ترجمان نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران اس صورتحال کو دفاعی اقدام کے طور پر قبول نہیں کرتا بلکہ اسے ایک واضح جارحیت سمجھتا ہے، جس کے نتائج اور قانونی پہلوؤں کو عالمی سطح پر سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہیے۔