ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

جنگ کے دوران امریکا کو 100 ارب ڈالر سے زائد مالی نقصان پہنچ چکا ہے: عباس عراقچی

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کی جانب سے جنگی اخراجات سے متعلق پیش کیے جانے والے اعداد و شمار کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن کو براہِ راست 100 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے، جبکہ اصل مالی بوجھ اس سے کہیں زیادہ ہے جو امریکی عوام پر منتقل ہو رہا ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جنگی پالیسیوں کے اثرات کے باعث ایک عام امریکی گھرانے پر ماہانہ تقریباً 500 ڈالر کا اضافی بوجھ پڑ رہا ہے، جب کہ بالواسطہ اخراجات امریکی ٹیکس دہندگان کے لیے مزید بھاری ثابت ہو رہے ہیں۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ سب سے پہلے امریکا کا نعرہ درحقیقت سب سے پہلے اسرائیل کی عکاسی کرتا ہے۔

قبل ازیں عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز سے متعلق بیان پر بھی سخت ردعمل دیا تھا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے پیغام میں انہوں نے امریکی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ پینٹاگون کی وضع کردہ اصطلاحات کے بجائے ’’خلیج فارس‘‘ کی درست اور تاریخی اصطلاح استعمال کرے، اور آبنائے ہرمز کو کسی اور نام سے موسوم کرنا ایک سنگین غلطی ہوگی۔

دوسری جانب ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی نے بھی مذاکرات کے حوالے سے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دباؤ یا جبر کے تحت کسی قسم کی بات چیت ایران کے لیے قابلِ قبول نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے حکومتی قیادت کے تمام ذمہ داران کے درمیان مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے، اور اگرچہ ایران مذاکرات کا حامی ہے، تاہم یہ عمل صرف برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر ہی ممکن ہے، کسی مسلط کردہ شرط کے تحت نہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں