ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

جب بھی سفارتی حل میز پر آتا ہے، امریکا فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کرتا ہے: ایرانی وزیرِ خارجہ

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران نے ایک بار پھر امریکا کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران اپنے دفاع کے معاملے میں کسی بھی حد تک جانے کی مکمل صلاحیت اور تیاری رکھتا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طرزِ عمل خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہا ہے، جب بھی مسائل کے حل کیلئے سفارتی راستہ اختیار کیے جانے کی امید پیدا ہوتی ہے، واشنگٹن مذاکرات کو آگے بڑھانے کے بجائے فوجی مہم جوئی کو ترجیح دینے لگتا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ دباؤ بڑھانے کی ایک ناکام کوشش ہے یا پھر کوئی ایسا عنصر متحرک ہے جو ایک مرتبہ پھر امریکی صدر کو ایک نئی اور خطرناک دلدل میں دھکیلنا چاہتا ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے امریکی خفیہ ادارے کی حالیہ رپورٹ کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی دفاعی صلاحیتوں اور میزائل پروگرام کے حوالے سے پیش کیے گئے اندازے حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے، بعض حلقے دانستہ طور پر ایران کی عسکری طاقت کو کم ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی میزائل ذخیرے اور لانچر استعداد کے حوالے سے جو اعداد و شمار پیش کیے گئے، وہ سراسر غلط ہیں، 28 فروری کے مقابلے میں ایران کی صلاحیت میں 75 فیصد نہیں بلکہ 120 فیصد اضافہ ہو چکا ہے اور ملک کی دفاعی تیاری مسلسل مضبوط بنائی جا رہی ہے۔

عباس عراقچی نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر ایرانی عوام کے دفاع اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کی بات آئے تو تہران کسی بھی ممکنہ خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے “1000 فیصد” تیار ہے، ایران اپنی سلامتی اور قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں