ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

سلامتی کونسل میں امریکا کی بڑی سفارتی ناکامی، ایران مخالف قرارداد ویٹو کر دی گئی

نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی ایران مخالف امریکی قرارداد کو روس نے مسترد کرتے ہوئے اسے ایک غیر متوازن اور اشتعال انگیز قدم قرار دیا ہے۔

اس قرارداد کی حمایت میں بحرین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر جیسے ممالک شامل تھے۔

امریکی قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز میں سمندری جہازوں پر حملوں کو فوری طور پر روکے اور ٹول کی وصولی ختم کرے، تاہم روسی مندوب نے اس مطالبے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن خطے میں بلاوجہ کشیدگی کو فروغ دے رہا ہے۔

روسی حکام نے کہا کہ یہ مسودہ کسی بھی صورت متوازن نہیں ہے اور اسے صرف ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ روس کے اس دوٹوک مؤقف کے بعد قرارداد منظور نہ ہو سکی جسے امریکا کی سفارتی ناکامی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ ہے جس کے باعث وہاں پیدا ہونے والی کشیدگی پر پوری دنیا کو تشویش ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ خطے میں امریکی جارحانہ اقدامات اور پابندیوں نے سیکیورٹی کی صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے ایران کی حمایت عالمی سیاست میں بدلتی ہوئی صف بندی کی واضح نشانی ہے۔ اس صورتحال میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مقابلے میں روس اور چین کا ایران کے ساتھ کھڑے ہونا ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق مستقبل میں اس قسم کے سفارتی تصادم عالمی طاقتوں کے درمیان تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ سلامتی کونسل میں روس کا یہ ویٹو طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے جس سے مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کا اثر و رسوخ محدود ہو سکتا ہے۔

اس واقعے نے ثابت کیا ہے کہ خطے کے معاملات پر عالمی طاقتوں کے درمیان اختلافات گہرے ہو رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عالمی برادری آبنائے ہرمز میں پیدا شدہ اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کون سا نیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے تاکہ تیل کی ترسیل بلا تعطل جاری رہ سکے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں