واشنگٹن: آبنائے ہرمز میں امریکا اور ایرانی فورسز کے درمیان ہونے والی حالیہ جھڑپوں نے عالمی توانائی مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور سرمایہ کار شدید بے چینی کا شکار ہیں۔
برینٹ کروڈ کی قیمت میں ٹریڈنگ کے دوران 7.5 فیصد تک کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے بعد اس کی قیمت 101 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ ایشیائی منڈیوں میں قیمتوں کے حوالے سے صورتحال تاحال غیر مستحکم ہے۔
عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ کی قیمت دن کے کچھ حصوں میں 103 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، جو توانائی کے شعبے کے لیے الارمنگ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کشیدگی برقرار رہنے سے عالمی تیل کی ترسیل کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب امریکی خام تیل کی قیمتوں میں بھی 3 فیصد تک کا اضافہ دیکھا گیا ہے جس کے بعد اس کی قیمت 97 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ چکی ہے۔ یہ صورتحال دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
توانائی کے امور کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ بحران کے باعث عالمی سطح پر روزانہ 14.5 ملین بیرل تیل کی سپلائی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ یہ صورتحال عالمی معیشت اور توانائی کے تحفظ کے لیے بہت بڑا چیلنج بن کر ابھری ہے۔
اگر امریکا اور ایران کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی میں کمی نہ آئی تو عالمی معیشت پر اس کے گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ توانائی کی سپلائی میں خلل کے باعث دنیا بھر میں مہنگائی کی ایک نئی لہر دوڑ سکتی ہے جس سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔
عالمی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی یہ غیر یقینی صورتحال تیل پیدا کرنے والے ممالک اور درآمد کنندگان دونوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ حکومتی سطح پر اس بحران سے نمٹنے کے لیے اب ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔