نئی دہلی : بھارت کی انتہا پسند ہندو جماعت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے جنرل سیکرٹری دتاتریہ ہوسبالے نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام اختلافات کے باوجود مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہونا چاہیے اور دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان روابط ہی تعطل ختم کرنے کی اصل کنجی ہیں۔
اپنے ایک انٹرویو میں ہوسبالے نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت نے بھارت کا اعتماد کھو دیا ہے، تاہم اس کے باوجود عوامی سطح پر رابطے جاری رہنے چاہییں۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی سلامتی اور خودداری کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بات چیت کے تمام راستے بند کر دیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ہمیشہ مذاکرات کے لیے ایک کھڑکی کھلی رکھنی چاہیے۔ عوامی رابطے ہی وہ امید ہیں جو دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کر سکتے ہیں کیونکہ ہماری تہذیبی اور ثقافتی جڑیں مشترک ہیں اور ہم ایک وقت میں ایک ہی قوم کا حصہ تھے۔
ان کے مطابق سفارتی تعلقات برقرار رکھنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ کسی نہ کسی سطح پر گفتگو کا سلسلہ جاری رہے۔
ہوسبالے کے اس بیان پر کانگریس نے طنزیہ ردعمل ظاہر کیا۔ کانگریس کے جنرل سیکرٹری جے رام رمیش نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ہوسبالے کے حالیہ امریکی دورے نے نہ صرف انہیں بلکہ پوری سنگھ تنظیم کو متاثر کیا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہی بات کسی اپوزیشن لیڈر نے کہی ہوتی تو بی جے پی اور اس کے حامی ٹی وی چینلز کس طرح ردعمل دیتے۔
کانگریس لیڈر منیش تیواری نے بھی سوال کیا کہ پہلگام حملے اور موجودہ صورتحال کے درمیان آخر ایسا کیا بدل گیا کہ اب مذاکرات کی بات کی جا رہی ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں پوچھا کہ کیا سنگھ پر کسی سپر پاور کا دبائو ہے۔