ڈبلن: آئرلینڈ کی صدر کیتھرین کونولی کی بہن مارگریٹ کونولی کو غزہ جانے والے امدادی بحری قافلے میں شامل ہونے کے دوران اسرائیلی فورسز نے تحویل میں لے لیا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق مارگریٹ کونولی بین الاقوامی امدادی مشن گلوبل صمود فلوٹیلا کا حصہ تھیں، جس کا مقصد غزہ تک انسانی امداد پہنچانا اور اسرائیلی ناکہ بندی کے خلاف آواز بلند کرنا تھا، قافلے کی متعدد کشتیوں کو قبرص سے تقریباً 70 میل دور بین الاقوامی سمندری حدود میں اسرائیلی فورسز نے روک لیا، جس کے بعد کشتیوں پر موجود افراد سے رابطہ منقطع ہوگیا۔
ایک ویڈیو پیغام میں مارگریٹ کونولی نے کہا کہ اگر یہ ویڈیو منظرعام پر آئی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اسرائیلی فورسز نے انہیں کشتی سے حراست میں لے لیا ہے اور وہ اسرائیلی تحویل میں ہیں۔
مارگریٹ کونولی پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں اور غزہ میں طبی امداد فراہم کرنے کے لیے اس مشن میں شریک ہوئی تھیں۔
صدر کیتھرین کونولی نے ایک آئرش ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی بہن پر فخر ہے تاہم وہ ان کی سلامتی کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں، ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعہ بین الاقوامی پانیوں میں پیش آیا، جو انتہائی تشویشناک ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل ماضی میں بھی غزہ جانے والے امدادی بحری قافلوں کو روک چکا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔