نئی دہلی: بھارتی ارب پتی صنعت کار گوتم اڈانی کی کمپنی اڈانی انٹرپرائزز نے ایران پر عائد امریکی پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزیوں کے معاملے میں امریکا کو 27 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ رقم ایک سول تصفیاتی معاہدے کے تحت ادا کی جائے گی تاکہ ایران سے متعلق پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات نمٹائی جا سکیں۔
امریکی حکام کے مطابق اڈانی انٹرپرائزز نے نومبر 2023 سے جون 2025 کے دوران مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی متعدد کھیپیں ایران سے خریدیں، حالانکہ اس وقت امریکا ایران کی تیل و گیس برآمدات پر سخت پابندیاں عائد کیے ہوئے تھا۔
تحقیقات میں الزام لگایا گیا ہے کہ بعض شپمنٹس کو تیسرے ممالک اور درمیانی کمپنیوں کے ذریعے منتقل کیا گیا تاکہ ایرانی گیس کی اصل خریداری کو چھپایا جا سکے۔ امریکی اداروں نے اس دوران شپنگ نیٹ ورکس، انشورنس ریکارڈز اور مالیاتی لین دین کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔
ذرائع کے مطابق کمپنی نے طویل قانونی کارروائی، ممکنہ تجارتی پابندیوں اور عالمی مالیاتی دباؤ سے بچنے کے لیے تصفیہ قبول کیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے اس معاملے پر فوری تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ فوجداری سزا نہیں بلکہ ایک سول تصفیہ ہے، تاہم اس معاملے نے عالمی کاروباری حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
یاد رہے کہ امریکا کئی برسوں سے ایران کی توانائی صنعت پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کیے ہوئے ہے اور دنیا بھر کی کمپنیوں کو خبردار کرتا رہا ہے کہ ایرانی تیل و گیس کی خریدوفروخت میں ملوث ہونے کی صورت میں انہیں امریکی مالیاتی نظام اور منڈی تک رسائی سے محروم کیا جا سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ اڈانی گروپ عالمی تنازع کی زد میں آیا ہو۔ 2023 میں ہنڈن برگ ریسرچ نے اڈانی گروپ پر مالی بے ضابطگیوں اور شیئر قیمتوں میں مبینہ ہیرا پھیری کے الزامات عائد کیے تھے، جس کے بعد گروپ کی مارکیٹ ویلیو میں نمایاں کمی دیکھی گئی تھی۔