بیروت: جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنی جارحیت کو جاری رکھا ہوا ہے جس کے نتیجے میں مزید 10 افراد شہید ہو گئے ہیں۔
لبنانی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والوں میں 6 امدادی کارکن اور ایک چھوٹی بچی بھی شامل ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق حکام نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ صور شہر کے نواحی علاقے میں کیے گئے ایک فضائی حملے میں 6 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں رسالہ اسکاؤٹس تنظیم کے 2 امدادی کارکن اور ایک شامی بچی شامل تھی۔
وزارت صحت نے مزید کہا کہ اس سے قبل جنوبی قصبے ہناوے پر بھی اسرائیلی فوج نے ایک اور کاری ضرب لگائی۔ اس حملے میں حزب اللہ سے وابستہ اسلامی ہیلتھ کمیٹی کے 4 امدادی کارکن شہید ہو گئے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کی افواج نے سرحد کے قریب 2 افراد کو ہلاک کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق انہیں سرحد کے قریب مشکوک انداز میں حرکت کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا جس کے بعد فضائی کارروائی کر کے انہیں ختم کر دیا گیا۔
اس صورتحال میں حزب اللہ نے بھی جوابی ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے لبنان کے اندر اور سرحد کے قریب واقع شمالی اسرائیل میں اسرائیلی فوجی دستوں اور ان کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ فریقین کی جانب سے جاری ان حملوں نے جنگ بندی کے قیام کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
خطے میں جاری کشیدگی کی وجہ سے عام شہریوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف ٹیموں کو بھی جان کا خطرہ درپیش ہے۔
عالمی برادری کی جانب سے جنگ بندی کی بحالی کے لیے کیے جانے والے مطالبات کے باوجود زمینی حقائق انتہائی سنگین اور تشویشناک صورتحال اختیار کر چکے ہیں۔