ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بجٹ میں عوام پر کم سے کم مالی دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے: وزیرِ خزانہ

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نئے مالی سال کے بجٹ کی تیاری میں عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ ٹیکسوں میں اضافے کے بجائے نظام کو مؤثر بنانے، محصولات کی وصولی بہتر کرنے اور قواعد پر عملدرآمد یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔بجٹ میں عوام پر کم سے کم مالی دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے، وزیرِ خزانہ

کمالیہ میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت کی معاشی پالیسی کا بنیادی مقصد عوام پر اضافی مالی دباؤ ڈالنے سے گریز کرنا ہے۔ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مختلف سطحوں پر اقدامات جاری ہیں اور معاشی اشاریوں میں بہتری لانے کے لیے مستقل حکمت عملی کے تحت کام کیا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ آئندہ بجٹ میں نئے ٹیکسوں کے نفاذ کے بجائے انفورسمنٹ اور کمپلائنس کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ ٹیکس نیٹ کو بہتر انداز میں وسعت دی جا سکے اور قومی خزانے کو مستحکم کیا جا سکے۔ معیشت کی بحالی کے لیے دیرپا اصلاحات ناگزیر ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت خطے میں پائی جانے والی کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی سطح پر متحرک کردار ادا کر رہی ہے اور عالمی برادری پاکستان کی سفارتی کوششوں اور مثبت پیش رفت کو قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔

انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ محض تنقید برائے تنقید کی سیاست سے گریز کریں اور ملک کو معاشی استحکام کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

وفاقی وزیر خزانہ نے زرعی شعبے کو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید زرعی طریقوں اور نئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے گندم سمیت دیگر فصلوں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض کاشتکار جدید طریقۂ کاشت اپناتے ہوئے گندم کی پیداوار 60 سے 70 من فی ایکڑ تک لے جانے میں کامیاب ہو چکے ہیں، جو اس شعبے میں بہتری کے وسیع امکانات کی عکاسی کرتا ہے۔

محمد اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف زرعی شعبے کو درپیش مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں اور حکومت اس شعبے کی ترقی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ اگر پاکستان میں زرعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا تو ملکی برآمدات کو بھی نئی تقویت ملے گی اور معیشت کے استحکام میں مدد حاصل ہوگی۔

  • ویب ڈیسک
  • دانیال عدنان

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں