مقبوضہ بیت المقدس: دنیا بھر کے مسلمان ایک جانب عیدالاضحیٰ کی خوشیاں منا رہے ہیں جب کہ اسی وقت اسرائیلی افواج نے لبنان اور غزہ میں اپنی درندگی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، جہاں بے گناہ شہریوں کو عید کی خوشیاں بھی نصیب نہیں ہو رہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی لبنان کے متعدد شہروں میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا جس سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلی۔ طائر اور سیدون سمیت کئی مقامات پر زوردار دھماکوں کے بعد تباہ شدہ عمارتوں سے اٹھتے دھوئیں کے کالے بادلوں نے پورے آسمان کو ڈھانپ لیا اور عید کی صبح ماتم میں بدل گئی۔
اُدھر غزہ میں بھی اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نہیں رکیں۔ قابض فوجی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایک فضائی حملے میں حماس کے 2 کمانڈروں کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں مذکورہ کمانڈروں کے علاوہ 2 اور فلسطینی شہری بھی شہید ہوئے۔
غزہ کی صحت عامہ کے حکام نے کم از کم 4 فلسطینیوں کی شہادت کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔
یہ حملے اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ اسرائیل مذہبی تہواروں اور بین الاقوامی اپیلوں کی پروا کیے بغیر اپنی فوجی کارروائیاں اور جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے۔
دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مختلف حکومتیں مسلسل اسرائیل سے جنگ بندی کا مطالبہ کر رہی ہیں لیکن ابھی تک یہ آوازیں بے اثر ثابت ہو رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق غزہ میں جاری اس اسرائیلی خونریز جارحیت نے انسانی بحران کو انتہائی سنگین شکل دے دی ہے جہاں عام شہری، خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق عالمی برادری کی خاموشی اور بے بسی پر ہر جانب سے سوالات اٹھائے ج جا رہے ہیں جب کہ مظلوم فلسطینی و لبنانی عوام انصاف کی راہ تک رہے ہیں۔