یورپ کے 6 ممالک میں مظاہرے کیوں؟ مطالبات الگ لگ لیکن بنیادی وجہ ایک

فرانس میں لاکھوں نکلے۔ عمارتیں جلا دیں، دکانیں لوٹ لیں- یورپ بھوک کا شکار ہونے لگا

October 19, 2026 · امت خاص

البانیہ میں مظاہرین اور پولیس میں جھڑپوں کا منظر

البانیہ میں مظاہرین اور پولیس میں جھڑپوں کا منظر

یورپ ان دنوں ایک غیر معمولی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ مختلف ممالک میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں، اور کئی جگہوں پر پرامن احتجاج تشدد میں بدل گیا ہے۔ سب سے بڑا اثر فرانس میں نظر آ رہا ہے۔

فرانس میں یہ سلسلہ ستمبر کے آخر میں شروع ہوا۔ شروع میں ہائی اسکول کے طلباء نے اسکولوں کی خراب حالت، اساتذہ کی کمی اور ناقص سہولیات کے خلاف آواز اٹھائی۔ مگر جلد ہی یہ مہنگائی، بڑھتی ہوئی قیمتوں، عدم مساوات اور عوامی خدمات کی خرابی تک پھیل گیا۔ 17 اکتوبر کو ملک بھر میں پانچ سے آٹھ لاکھ لوگ سڑکوں پر نکلے۔ پیرس سمیت کئی شہروں میں جھڑپیں ہوئیں، عمارتیں جلائیں گئیں، دوکانیں لوٹی گئیں اور پولیس کے ساتھ شدید تصادم ہوا۔ لیموج کا تاریخی ٹاؤن ہال آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ حکومت کے مطابق دو ہزار سے زائد افراد گرفتار ہوئے، جبکہ سینکڑوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ صدر میکرون نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے تشدد کی شدید مذمت کی اور جائز مطالبات اور تشدد کرنے والوں میں فرق واضح کیا۔

یہ صرف فرانس تک محدود نہیں رہا۔

پرتگال میں لوگ رہائش کے بحران سے تنگ آ چکے ہیں۔ گھر کی قیمتیں پچھلے چند سالوں میں دوگنی سے زیادہ ہو چکی ہیں، کرایے آسمان چھونے لگے ہیں اور تنخواہیں اس رفتار سے نہیں بڑھی ہیں۔ لزبن میں ہزاروں لوگوں نے مارچ کیا اور شہر کے مرکز میں خیمے لگا کر احتجاج کیا۔

اٹلی میں میلان سمیت کئی شہروں میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ شروع میں پرامن رہے، مگر بعد میں نقاب پوش گروپوں نے پتھر پھینکے اور آگ لگائی، جس پر پولیس نے ٹیر گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔

بیلجیم میں برسلز اور لیج میں طلباء نے تعلیمی اخراجات بڑھنے اور اعلیٰ تعلیم کو مشکل بنانے والی اصلاحات کے خلاف احتجاج کیا۔

البانیہ میں صورتحال اور بھی شدید ہے۔ طلباء نے وزیراعظم ایڈی راما کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کی شکایت یونیورسٹی کی خراب حالت، زیادہ فیس، بے روزگاری اور کرپشن سے ہے۔ تیرانا میں کئی دنوں سے جھڑپیں جاری ہیں، جس میں عمارتوں کو نقصان پہنچا اور پولیس نے ربر بلیٹس تک استعمال کیے۔

سپین میں بھی رہائش کا مسئلہ سب سے بڑا ہے۔ ستمبر میں ایک بوڑھی خاتون کو گھر سے بے دخل کیا گیا جب کرایہ تین گنا بڑھا دیا گیا۔ اس واقعے نے غصے کو ہوا دی، میڈرڈ میں خیمہ کیمپ لگایا گیا، اور حکومت کے ہاؤسنگ اقدامات پارلیمنٹ میں مسترد ہونے کے بعد نومبر کے لیے جلدی انتخابات کا اعلان کر دیا گیا۔

ان سب مظاہروں کی جڑ ایک ہی ہے: مہنگائی، رہائش کی عدم دستیابی، تعلیم کی حالت زار، اور لوگوں کا یہ احساس کہ حکومت ان کی مشکلات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔ نوجوانوں کی مایوسی خاص طور پر واضح نظر آ رہی ہے۔

یورپ کے کئی ممالک اب اس غصے کا سامنا کر رہے ہیں کہ معاشی دباؤ کتنا گہرا ہو چکا ہے۔ حالات اب بھی بدل رہے ہیں، اور اگلے چند دنوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ حکومتیں ان مطالبات کا کیا جواب دیتی ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں