برازیل میں امریکہ نواز رہنما کی شکست اور لولا دی سلوا کی جیت پر سب خوش کیوں؟

جولین آسانج نے لولا ڈی سلوا کی حمایت کی، بھارتی یوٹیوبر درو راٹھی نے برازیلین ری فارسٹ بچنے کا دعویٰ کیا

October 26, 2026 · امت خاص

برازیل میں امریکہ نواز رہنما کی شکست اور لولا دی سلوا کی جیت پر سب خوش کیوں؟

برازیل میں امریکہ نواز رہنما کی شکست اور لولا دی سلوا کی جیت پر سب خوش کیوں؟

برازیل کے حالیہ صدارتی انتخابات میں لوئیز اناسیو لولا دا سلوا کی کامیابی نے نہ صرف لاطینی امریکہ بلکہ دنیا بھر کے ترقی پسند، بائیں بازو کے حلقوں اور آزادی اظہار کے حامیوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ برازیل میں امریکہ نواز سیاستدانوں کے خلاف لولا ڈی سلوا کو فتح حاصل ہوئی ہے۔

ایک عمومی تاثر یہ ہے کہ یہ جیت صرف ایک سیاسی فتح نہیں بلکہ کئی سطحوں پر ایک علامت بن گئی ہے۔ ماحولیاتی تحفظ، سماجی انصاف، آزادی اظہار اور عالمی طاقتوں کے دباؤ کے خلاف خودمختاری کی۔ اسی لیے جولین آسانج جیسے وکی لیکس کے بانی سے لے کر بھارتی یوٹیوبر درو راٹھی تک بہت سے لوگ اس نتیجے پر خوش ہیں۔

وکی لیکس کے بانی جولین آسانج نے انتخابات سے عین پہلے لولا کا کھلے عام ساتھ دیا۔ انہوں نے لکھا کہ وہ 1901 دن تنہائی کی قید میں اس لیے رہے کہ انہوں نے امریکی حکومت کے قتل و جاسوسی کے راز افشا کیے تھے، جن میں برازیل اور اس کی صنعتوں کے خلاف کارروائیاں بھی شامل تھیں۔ آسانج کے مطابق جب لولا اقتدار سے باہر تھے تو انہوں نے ان کی آزادی کے لیے جدوجہد کی۔ اقتدار میں آنے کے بعد لولا نے پوپ فرانسس سے ان کے کیس پر بات کی، جس کے نتیجے میں پوپ نے آسانج کے خاندان سے ملاقات کی اور مدد کی پیشکش کی۔ رہائی کے بعد دونوں روم میں ملے جہاں لولا آسانج کے بچوں کے ساتھ مہربان رہے اور بدلے میں کچھ نہیں مانگا۔

اس کے برعکس آسانج نے جائر بولسونارو اور ان کے بیٹے فلاویو بولسونارو پر الزام لگایا کہ انہوں نے کچھ نہیں کیا اور کچھ نہیں کہا۔ آسانج نے مزید کہا کہ واشنگٹن اور تل ابیب کو “نہ” کہنے کی صلاحیت کے بغیر کوئی قومی پالیسی نہیں ہوتی بلکہ صرف بیرونی ہدایات ہوتی ہیں۔ یہ بیان آسانج کی طویل جدوجہد—آزادی اظہار، ریاستی رازوں کی افشا کاری اور امریکی دباؤ کے خلاف مزاحمت—کو لولا کی پالیسیوں سے جوڑتا ہے۔ لولا نے ماضی میں بھی آسانج کی حمایت کی تھی اور انہیں صحافی قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کی وکالت کی تھی۔ اس لیے آسانج کی خوشی ذاتی احسان مندی کے ساتھ اصولی بھی ہے۔

بھارتی یوٹیوبر درو راٹھی نے نتیجے کے بعد لکھا: “پوری دنیا کو برازیلیوں کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ زیادہ تر لوگوں کو اندازہ نہیں کہ یہ انتخابات کتنے اہم تھے۔ یہ ایمیزون بارش کے جنگل کو بچانے یا ٹرمپ کے اولیگارکس کے ہاتھوں اس کی مکمل تباہی کے درمیان فرق تھا۔ زمین کے پھیپھڑے ابھی کے لیے محفوظ ہیں۔” راٹھی نے اسے جمہوریت کی فتح قرار دیا اور ایمیزون کے تحفظ کو مرکزی اہمیت دی۔

لولا کی حکومت ماحولیاتی تحفظ، مقامی کمیونٹیز کے حقوق اور ایمیزون کی کٹائی روکنے کی پالیسیوں کے لیے جانی جاتی ہے۔ بولسونارو دور میں جنگلات کی کٹائی میں تیزی آئی تھی۔ لولا کی واپسی کو بہت سے لوگ ماحولیاتی بحران کے خلاف ایک اہم قدم سمجھتے ہیں۔ راٹھی جیسے تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ نتیجہ نہ صرف برازیل بلکہ عالمی موسمیاتی جدوجہد کے لیے اہم ہے، خاص طور پر جب دائیں بازو کی قوتیں اور کارپوریٹ مفادات جنگلاتی تحفظ کے خلاف کھڑی نظر آتی ہیں۔

لولا کی جیت کو کئی حلقوں میں اس لیے سراہا جا رہا ہے کہ لولا کو “غریبوں کا صدر” سمجھا جاتا ہے۔ ان کی پچھلی حکومتوں میں لاکھوں لوگوں کو غربت سے نکالا گیا، سماجی پروگراموں کو وسعت دی گئی اور مزدور حقوق پر توجہ دی گئی۔ بائیں بازو کے لوگوں کے لیے یہ طبقاتی جدوجہد کی علامت ہے۔

لولا کی کامیابی خطے میں بائیں بازو کی حکومتوں کی لہر کو تقویت دیتی ہے۔ کولمبیا، میکسیکو اور دیگر ممالک کے رہنماؤں نے بھی مبارکباد دی تھی (ماضی کی جیتوں میں بھی)۔ یہ امریکی اثر و رسوخ کے خلاف زیادہ خودمختار پالیسیوں کی امید پیدا کرتا ہے۔

جمہوریت اور انتہا پسندی کے خلاف: بہت سے لوگ اسے انتہائی دائیں بازو (بولسونارو خاندان) کے خلاف جمہوری اداروں کی فتح سمجھتے ہیں۔ آسانج جیسے لوگ اسے بیرونی دباؤ کے خلاف خودمختاری سے جوڑتے ہیں۔

آسانج آزادی صحافت کی علامت ہیں تو راٹھی جیسے لوگ ماحولیات اور جمہوریت کو عالمی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ لولا دونوں محاذوں پر مثبت سمجھیے جانے والے موقف رکھتے ہیں۔

تصویر کا دوسرا رخ

سب لوگوں کیلئے لولا ڈی سلوا آزادی اظہار اور انسان دوستی کی علامت نہیں ناقدین لولا کی حکومت پر کرپشن کے پرانے الزامات، معاشی چیلنجز اور سیاسی تقسیم کی بات کرتے ہیں۔ کئی صحافیوں نے برازیلین صدر پر صحافت کو کچلنے کا الزام بھی عائد کیا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں