اینتھروپک کے اے آئی ماڈل نے بغیر اجازت ووٹرز کی معلومات تک رسائی حاصل کر لی

جارجیا: اینتھروپک کے اے آئی ماڈل کلاڈ نے بغیر اجازت ووٹرز سے متعلق معلومات تک رسائی حاصل کر کے مصنوعی ذہانت سے جڑے خدشات اور بڑھا دیے ہیں۔

اینتھروپک کے اے آئی ماڈل کلاڈ نے انسانی اجازت کے بغیر امریکی ریاست جارجیا کے ووٹرز سے متعلق عوامی طور پر دستیاب ڈیٹا تک رسائی حاصل کی ہے۔ اس انکشاف سے آئندہ امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل اے آئی کے تحفظ کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی بڑی کمپنیوں اینتھروپک اور اوپن اے آئی کی جانب سے ایسے واقعات کے انکشافات سامنے آتے رہے ہیں، جن میں اُن کے اے آئی ایجنٹس نے غیر مجاز یا غیر ارادی اقدامات کیے۔ ان واقعات نے ماڈلز کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں اور ان پر انسانی کنٹرول کی حدود کے بارے میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

اینتھروپک کے مطابق، کلاڈ نے ایک داخلی شماریاتی منصوبے پر کام کرتے ہوئے مجموعی ووٹوں کی تعداد سے متعلق ڈیٹا تک رسائی حاصل کی۔ یہ معلومات عوام کو ریاست جارجیا ایک مقررہ فیس کے عوض فراہم کرتی ہے۔

اینتھروپک کے ترجمان نے کہا کہ ماڈل نے ریاست کے ووٹر رجسٹریشن نظام تک رسائی حاصل نہیں کی، نہ ہی ووٹنگ کے کسی ریکارڈ میں تبدیلی کی اور نہ ہی ایسا کوئی ریکارڈ حاصل کیا۔ تاہم جارجیا کے حکام اور اینتھروپک کے مطابق، ماڈل نے معلومات تک رسائی کے دوران ادائیگی کی شرط کو نظر انداز کیا۔

اینتھروپک کے ترجمان نے کہا ’’یہ ماڈل ایک شماریاتی منصوبے کے لیے اندرونی طور پر استعمال کیا جا رہا تھا تاکہ عوامی ڈیٹا حاصل کیا جا سکے۔ ماڈل نے بغیر کہے ایک ایسا ٹوکن حاصل کرنے کی درخواست کی جس کے ذریعے اس ڈیش بورڈ سے معلومات حاصل کی جا سکتی تھیں، جہاں موجود ڈیٹا عام طور پر فیس کے عوض دستیاب ہوتا ہے۔ ہم نے اس کے بعد ایسے اقدامات کیے ہیں جن کا مقصد اس نوعیت کی کارروائیوں کو روکنا ہے۔‘‘

معاملے سے واقف ایک ذریعے نے امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس کو بتایا کہ کمپنی نے کئی ہفتے قبل جارجیا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ کے دفتر اور وائٹ ہاؤس کو اس واقعے سے آگاہ کر دیا تھا۔ تاہم حکام نے جارجیا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ کے دفتر پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کو جلد عوام کے سامنے لائے۔ تاہم ان مطالبات پر عمل نہیں کیا گیا۔

اس سے قبل بھی اینتھروپک کو اے آئی سے متعلق واقعات کے بارے میں ناکافی انکشافات کرنے پر امریکی انتظامیہ کی تنقید کا سامنا رہا ہے۔ اب جارجیا میں پیش آنے والا یہ واقعہ بھی اسی نوعیت کے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں