اتر پردیش قانون ساز کونسل کے دو سالہ انتخابات کے دوران انتخابی بے ضابطگیوں اور لاپروائی کے معاملے میں الیکشن کمیشن نے سخت کارروائی کرتے ہوئے 6 افسران کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ 5 دیگر انتخابی افسران اور 16 پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی تادیبی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ کارروائی آگرہ ڈویژن کے کمشنر کی رپورٹ کی بنیاد پر کی گئی ہے، جس میں تین پولنگ مراکز پر دوبارہ انتخابات کرانے کی سفارش کی گئی تھی۔
الیکشن کمیشن نے آگرہ ڈویژن کے ٹیچر حلقے میں پولنگ اسٹیشن نمبر 20، 21 اور 26 پر جمعہ کو ہونے والی ووٹنگ کو منسوخ قرار دے دیا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے حمایت یافتہ امیدوار اور موجودہ رکن قانون ساز کونسل ڈاکٹر آکاش اگروال نے ان مراکز پر بوتھ کیپچرنگ اور دھاندلی کے الزامات لگائے تھے۔ ان شکایات کے بعد معاملے کی جانچ کی گئی اور متعلقہ حکام کی رپورٹ کی بنیاد پر کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ مراکز کے آس پاس مناسب نگرانی اور کنٹرول برقرار نہ رکھنا متعلقہ افسران کی سنگین لاپروائی ہے، جسے کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ کمیشن نے پولنگ اسٹیشن نمبر 21، واقع علاقائی پنچایت دفتر، سَیّاں، اور پولنگ اسٹیشن نمبر 26، واقع علاقائی پنچایت دفتر، فتح آباد میں تعینات چھ نگران افسران کو فوری طور پر معطل کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
معطل کیے گئے افسران میں او پی چک، انسپکٹر ہری شرن سنگھ، سب انسپکٹر سندیپ کمار، وشال راٹھور، انسپکٹر پُرشوتم پال اور سب انسپکٹر سمیت تیاگی شامل ہیں۔ کمیشن نے متعلقہ حکام کو ان افسران کے خلاف چارج شیٹ جاری کرنے اور 10 دن کے اندر اس کا مسودہ جانچ کے لیے بھیجنے کی ہدایت دی ہے۔
کمیشن نے پولنگ اسٹیشن نمبر 21 اور 26 پر تعینات پانچ دیگر انتخابی افسران کے خلاف بھی ضابطے کے مطابق تادیبی کارروائی شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ ان مراکز پر تعینات 16 پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ ان میں پانچ ہیڈ کانسٹیبل اور 11 کانسٹیبل شامل ہیں۔