امریکہ نے 150 افغان باشندے گرفتار کر لیے، پاکستان کے راستے ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ

ان افراد کو لوزیانا کے علاقے جینا میں واقع ایک حراستی مرکز میں جمع کیا ہے، جہاں سے ان کی ملک بدری کا عمل مکمل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

October 31, 2026 · امت خاص

امریکہ نے 150 افغان باشندے گرفتار کر لیے، پاکستان کے راستے ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ

امریکہ نے 150 افغان باشندے گرفتار کر لیے، پاکستان کے راستے ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے 150 سے زائد افغان شہریوں کو ملک بدر کرکے پاکستان کے راستے افغانستان منتقل کرنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں امریکہ بھر کے مختلف حراستی مراکز سے افغان شہریوں کو ریاست لوزیانا منتقل کیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق امریکی امیگریشن حکام نے ان افراد کو لوزیانا کے علاقے جینا میں واقع ایک حراستی مرکز میں جمع کیا ہے، جہاں سے ان کی ملک بدری کا عمل مکمل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

چونکہ امریکہ اور افغانستان کی طالبان حکومت کے درمیان براہ راست سفارتی تعلقات موجود نہیں، اس لیے امریکی حکام نے ملک بدری کے لیے متبادل راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ منصوبے کے تحت افغان شہریوں کو خصوصی پروازوں کے ذریعے پہلے پاکستان پہنچایا جائے گا، جہاں سے انہیں زمینی راستے کے ذریعے افغانستان منتقل کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں پہلی خصوصی پرواز 2 نومبر 2026 کو روانہ ہونے کا امکان ہے۔

حراست میں لیے گئے افغان شہریوں میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کے اہل خانہ نے افغانستان میں امریکی فوج اور اتحادی افواج کے ساتھ بطور مترجم اور معاون کام کیا تھا۔ ان میں ایسے پناہ گزین بھی موجود ہیں جنہیں افغانستان واپسی کی صورت میں طالبان حکومت کے تحت مشکلات اور خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی حکومت کے اس فیصلے پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانونی ماہرین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ افغان شہریوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم افغان ایویک سمیت مختلف گروپس نے وفاقی عدالتوں سے رجوع کرتے ہوئے ملک بدری روکنے کی درخواستیں دائر کر دی ہیں۔

درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ ان افراد کو زبردستی افغانستان واپس بھیجنے سے ان کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں اور یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی بھی ہو سکتا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں