محبوبہ مفتی کا نیشنل کانفرنس پر سخت حملہ، کہا: کشمیر کا مرکز سے سیاسی اور جذباتی رابطہ ختم کرنے کی ذمہ دار این سی

سری نگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر اور مرکزی حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی اور جذباتی دوری کی ذمہ دار نیشنل کانفرنس کی قیادت ہے۔
محبوبہ مفتی پیر کے روز سری نگر کے شیرِ کشمیر پارک میں پی ڈی پی کے یومِ تاسیس کے موقع پر منعقدہ ایک بڑے ورکرز کنونشن سے خطاب کر رہی تھیں۔ اس دوران انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کشمیری عوام کو مسلسل شک و شبہ کی نگاہ سے کیوں دیکھا جا رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے، کشمیری ملازمین کو ملازمتوں سے برطرف کیا جا رہا ہے اور قبائلی برادریوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا، ’’آخر ہندوستان کو ہم پر اتنا شک کیوں ہے؟ ہمارے نوجوانوں کو مارا پیٹا جا رہا ہے، کشمیری افسران کو ملازمتوں سے ہٹایا جا رہا ہے اور قبائلی آبادی کو بے دخل کیا جا رہا ہے۔ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘
نیشنل کانفرنس پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس جماعت نے وزیراعظم کے نظام سے وزیراعلیٰ کے نظام کی طرف منتقلی کے بعد خودمختاری کے مطالبے کو دفن کر دیا۔انہوں نے وادی کشمیر میں عسکریت پسندی کے مشکل دور کے لیے بھی نیشنل کانفرنس کی قیادت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اس دور میں عوام نے شدید مشکلات کا سامنا کیا اور الزام لگایا کہ نیشنل کانفرنس نے اس وقت اخوان فورسز کا استعمال کیا تھا۔
نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے پاکستان سے متعلق بیان کا حوالہ دیتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیری عوام اپنا فیصلہ پہلے ہی کر چکے ہیں اور وہ ہندوستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے شیخ محمد عبداللہ کے جموں و کشمیر کے ہندوستان سے الحاق میں کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مسلم اکثریتی خطہ ہونے کے باوجود ہندوستان پر اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ محبوبہ مفتی نے سابق وزیراعظم جواہر لعل نہرو اور مہاتما گاندھی کے ساتھ شیخ عبداللہ کے تعلقات کا بھی حوالہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ شیخ عبداللہ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کو جموں و کشمیر لائے تھے تاکہ خطے میں امن کی بحالی میں مدد مل سکے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مغل روڈ کی تعمیر کا بھی ذکر کیا۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کا قیام جموں و کشمیر کے وقار اور شناخت کی بحالی کے مقصد سے عمل میں لایا گیا تھا اور ان کی جماعت نے کبھی دوہری پالیسی اختیار نہیں کی۔انہوں نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ بات چیت کا عمل شروع کرے اور سوال اٹھایا کہ آخر کب تک اس خطے کو طاقت کے بل پر چلایا جاتا رہے گا۔
دہلی میں 10 اکتوبر کو پیش آنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کے غصے اور خدشات کو سمجھنے کی کوشش کرے، نہ کہ طاقت اور جبر کے ذریعے امن کا تاثر قائم کرنے کی کوشش کرے۔انہوں نے جموں و کشمیر کی شناخت تبدیل کرنے کی کوششوں کے خلاف بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اس خطے کی شناخت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں خود اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔اس موقع پر انہوں نے پاکستان پر طنز کرتے ہوئے اسے ’ڈکیستان‘ بھی قرار دیا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں