کہا، اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرسکتا، پارٹی قیادت پر عوامی مینڈیٹ سے غداری کا الزام
بڈگام/ آغا سید روح اللہ مہدی نے منگل کے روز حکمران جماعت نیشنل کانفرنس سے علیحدگی اختیار کرنے اور سری نگر کے رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے یہ اعلان بڈگام کے بہشتِ زہرا پارک میں منعقدہ ایک عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران کیا۔
اپنے والد آغا سید مہدی کی برسی کے موقع پر منعقدہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے روح اللہ نے ایک مرتبہ پھر نیشنل کانفرنس کی قیادت کے ساتھ اپنے اختلافات کا اظہار کیا۔ انہوں نے پارٹی قیادت پر عوامی مینڈیٹ کے ساتھ غداری کرنے اور انتخابی وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہنے کا الزام عائد کیا۔
روح اللہ نے کہا کہ پارٹی کے ساتھ ان کے اختلافات ذاتی نوعیت کے نہیں بلکہ اصولوں اور سیاسی وعدوں سے متعلق ہیں، بالخصوص دفعہ 370 کی بحالی، آئینی حقوق کے تحفظ، ریزرویشن پالیسی اور قیدیوں کی رہائی جیسے اہم معاملات پر پارٹی اپنے وعدوں پر کھری نہیں اتری۔انہوں نے واضح کیا کہ ان کا فیصلہ کسی ذاتی ناراضگی یا پارٹی میں کوئی عہدہ نہ ملنے کی مایوسی کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ وہ ان اہم معاملات پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں جن کی بنیاد پر نیشنل کانفرنس نے عوام سے ووٹ حاصل کیے تھے۔
روح اللہ نے مزید کہا کہ ان کا مقصد محض ایک سیاسی جماعت چھوڑ کر دوسری جماعت میں شامل ہونا نہیں ہے، بلکہ وہ جموں و کشمیر کے ایسے دیانت دار، مخلص اور پرعزم نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا چاہتے ہیں جو اپنی سرزمین اور عوام کے درد کو سمجھتے ہیں۔انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں، جن کی پرورش انہوں نے ایمانداری اور محنت کے ساتھ کی ہے، کو معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے آگے آنے کی ترغیب دیں۔
روح اللہ نے کہا کہ وہ ایسے مخلص اور وقف نوجوانوں کا پلیٹ فارم تشکیل دینا چاہتے ہیں جو عوامی فلاح و بہبود اور جموں و کشمیر کی بہتری کے لیے کام کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں۔
واضح رہے کہ سری نگر کی لوک سبھا نشست اس وقت تک باضابطہ طور پر خالی نہیں ہوگی جب تک لوک سبھا اسپیکر ان کا رسمی استعفیٰ منظور نہیں کرتے۔ اس کے بعد نشست پر ضمنی انتخاب متعلقہ قانونی ضابطوں کے تحت منعقد کیا جائے گا۔