دہرا معیار ختم، امیر اور غریب کے لیے ایک ہی قانون ہوگا، ون کانسٹیٹیوشن کے متاثرین کو رقم واپس ملے گی ، وزیر داخلہ
فائل فوٹو
اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اعلان کیا ہے کہ جے آئی ٹی (JIT) رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد حکومت کو شاہراہِ دستور پر واقع اہم عمارت ‘ون کانسٹیٹیوشن’ کا قانونی قبضہ مل گیا ہے۔
اسلام آباد میں وفاقی وزرا کے ہمراہ ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ حکومت ایک طویل عرصے سے جے آئی ٹی کی اس رپورٹ کا انتظار کر رہی تھی۔ رپورٹ کے بعد قانونی کارروائی مکمل کرتے ہوئے عمارت کا قبضہ حاصل کر لیا گیا ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ آنے والے چند ماہ کے اندر اس عمارت کو ایک عالمی معیار کے ہوٹل میں تبدیل کر دیا جائے۔
پریس کانفرنس کے دوران اسلام آباد میں سرکاری اراضی پر ناجائز قبضوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں سرکاری زمینوں پر جس بے دردی سے قبضہ کیا گیا، اس کا اندازہ عام شہری نہیں کر سکتے۔
انہوں نے بتایا کہ جس دن حکومت نے اس عمارت کا قانونی قبضہ لینے کی کوشش کی، اس دن ایک خاص قسم کا عجیب ماحول بنا کر تاثر دیا گیا جیسے حکومت سے کوئی جرم سرزد ہو گیا ہو۔
محسن نقوی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قانون کی حکمرانی اور یکساں نظام کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ایک ہی مقصد تھا کہ ملک میں دہرا معیار ختم ہو۔ غریب اور امیر کے لیے الگ الگ قوانین نہیں ہو سکتے، سب کے لیے ایک ہی معیار ہوگا۔
وزیر داخلہ نے مزید بتایا کہ اس پورے معاملے اور لینڈ مافیا و تجاوزات کے خلاف کارروائی میں وزیراعظم کی جانب سے مکمل سپورٹ حاصل رہی۔ انہوں نے پروجیکٹ کے متاثرین کو یقین دہانی کرائی کہ اس پروجیکٹ کے تمام متاثرہ افراد کو ان کی رقم شفاف طریقے سے واپس ادا کی جائے گی۔