شاہ اللہ دتہ کی بدھا غاروں میں کون سے راز پوشیدہ ہیں؟ ویڈیو

اسلام آباد : شاہ اللہ دتہ کی بدھا غاریں اسلام آباد میں سلسلہ کوہ مارگلہ کے دامن میں ایک قدیم گاؤں میں واقع ہیں، مذکورہ غاریں یونین کونسل 93 گاؤں پنڈ سنگڑیال اور خان پور جانے والے راستے پر مزار کے پاس واقع ہیں۔

اے آر وائی نیوز کی نمائندہ ملائکہ اسحاق کی رپورٹ کے مطابق ان غاروں اور یہاں موجود بدھ مت کی نقاشی (پینٹنگز) کو تقریباً 2 ہزار 4 سو سال پرانا سمجھا جاتا ہےاس علاقے کا نام مغل دور کے ایک صوفی بزرگ اور درویش شاہ اللہ دتہ کے نام پر رکھا گیا ہے، اور پنڈ سنگڑیال نامی یہ گاؤں تقریباً 650 سال پرانا ہے۔

شاہ اللہ دتہ کی قدیم بدھا غاریں، صدیوں پرانے تاریخی ورثے کے تحفظ اور بحالی منصوبے کا افتتاح مارگلہ کی پہاڑیوں میں واقع بدھ مت دور کی تاریخی غاریں، قدیم بودھ راہبوں کی عبادت گاہ اور شاہراہِ ریشم کے اہم راستے کی یادگار، حمزہ شہباز نے تحفظ و بحالی منصوبے کا افتتاح کردیا گیا۔

اسلام آباد کی مارگلہ پہاڑیوں میں واقع شاہ اللہ دتہ کی قدیم بدھا غاروں کے تحفظ اور بحالی کے لیے منصوبے کا افتتاح کردیا گیا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے گزشتہ روز اس تاریخی منصوبے کا افتتاح کیا۔

اس منصوبے کو پاکستان کے قدیم بدھ مت ورثے کے تحفظ، بحالی اور مشترکہ ثقافتی تاریخ کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔

شاہ اللہ دتہشاہ اللہ دتہ

شاہ اللہ دتہ کی بدھا غاریں اسلام آباد کے مضافات میں مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں واقع ہیں۔ یہ تاریخی مقام اپنے اندر کئی صدیوں کی تہذیبی، مذہبی اور ثقافتی تاریخ سموئے ہوئے ہے۔

تاریخ دانوں کے مطابق یہ غاریں بدھ مت کے اس دور کی یادگار ہیں جب ٹیکسلا علم و دانش اور بدھ مت کی تعلیمات کا ایک اہم مرکز ہوا کرتا تھا۔

مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں واقع غاریں مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں واقع غاریں

روایات کے مطابق چوتھی صدی قبل مسیح میں بدھ راہب ان غاروں میں قیام کرتے، مراقبہ کرتے اور عبادت میں وقت گزارتے تھے۔ یہ مقام محض عبادت گاہ نہیں تھا بلکہ قدیم شاہراہِ ریشم اور اہم تجارتی راستوں کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے مسافروں اور راہبوں کے لیے ایک اہم پڑاؤ بھی سمجھا جاتا تھا۔

مقامی روایات میں یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ سکندر اعظم سے لے کر مغل بادشاہوں تک مختلف ادوار کی اہم شخصیات نے اس علاقے میں قیام کیا۔ سولہویں صدی میں شاہ اللہ دتہ نامی شخصیت کی یہاں آمد اور سکونت کے بعد یہ علاقہ ان کے نام سے منسوب ہوگیا اور شاہ اللہ دتہ کے نام سے پہچانا جانے لگا۔

ان غاروں کے سامنے موجود قدیم برگد کے درخت بھی اس تاریخی مقام کی پہچان ہیں۔ مقامی روایات کے مطابق ان درختوں کی عمر 500 سال سے زیادہ ہے۔ ان کی پھیلی ہوئی شاخیں اور زمین میں دور تک پھیلی جڑیں اس مقام کے قدرتی حسن میں اضافہ کرتی ہیں۔ یہ درخت محض قدرتی ورثہ نہیں بلکہ علاقے کی تاریخی شناخت کا بھی حصہ سمجھے جاتے ہیں۔

دو ہزار چار سو سال پرانی غاریں دو ہزار چار سو سال پرانی غاریں

شاہ اللہ دتہ کی بدھا غاریں پاکستان میں بدھ مت تہذیب کے ان آثار میں شامل ہیں جو خطے کی قدیم تاریخ، مذہبی رواداری اور مختلف تہذیبوں کے باہمی تعلقات کی عکاسی کرتے ہیں۔

ان غاروں کی بحالی سے نہ صرف تاریخی آثار کو محفوظ بنانے میں مدد ملے گی بلکہ اسلام آباد میں ثقافتی سیاحت کے فروغ اور قدیم تہذیبی ورثے کو نئی نسل سے متعارف کرانے کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

منصوبے کے افتتاح کے بعد حمزہ شہباز شریف نے ان تاریخی غاروں کا دورہ کیا، جہاں سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی نے انہیں منصوبے کی تکمیل، اہم خصوصیات اور مجموعی لاگت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

اس موقع پر غاروں کی تاریخی اور مذہبی اہمیت کو اجاگر کیا گیا، جو اس خطے میں بدھ مت کے پیروکاروں کی موجودگی اور مذہبی عبادات کی قدیم تاریخ کا اہم ثبوت ہیں۔ تقریب کے دوران شاہ اللہ دتہ غاروں کے تاریخی پس منظر اور آثارِ قدیمہ کی اہمیت پر مبنی دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حمزہ شہباز شریف نے تاریخی مقام کے تحفظ اور بحالی کے لیے وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ سرسبز درختوں اور خوبصورت پہاڑوں کے درمیان اس تاریخی مقام پر موجودگی ان کے لیے باعثِ مسرت ہے۔

حالیہ منصوبے کے افتتاح کو پاکستان کے مشترکہ ثقافتی ورثے کی حفاظت کی کوششوں میں اہم قدم قرار دیا جارہا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں