وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ، پشاور ہائیکورٹ کو ایم پی او کے مقدمات سننے سے روک دیا گیا

اہم پیش رفت، پشاور ہائیکورٹ نے تمام درخواستیں ڈیلیٹ کر دیں، متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت۔

November 7, 2026 · اہم خبریں

پشاور ہائیکورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کا احاطہ جہاں مقدمات کی سماعت کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کا احاطہ جہاں مقدمات کی سماعت کی گئی۔

پشاور ہائی کورٹ میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف دائر تمام درخواستیں کاز لسٹ سے ڈیلیٹ کر دی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پشاور ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، بابر سلیم سواتی اور جنید اکبر کی بازیابی کی درخواستیں بھی کاز لسٹ سے خارج کرتے ہوئے 10 نومبر کی نئی کاز لسٹ جاری کر دی ہے۔ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے خلاف بیرسٹر گوہر، اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی، کے پی بار کونسل اور رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار سمیت دیگر شخصیات کی جانب سے رٹ پٹیشنز دائر کی گئی تھیں۔

دوسری جانب وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے خیبرپختونخوا حکومت کی اپیل پر سماعت کی۔ دورانِ سماعت ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے مؤقف اپنایا کہ آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی کارروائیوں کے زمرے میں ہائیکورٹ مداخلت نہیں کر سکتی اور نہ ہی عدالتِ عالیہ آرٹیکل 199 کا اختیار استعمال کر سکتی ہے۔ عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کو تھری ایم پی او کے تحت گرفتاریوں کے مقدمات سننے سے روک دیا اور ہائیکورٹ کے مختلف بینچز کے چیلنج کیے گئے احکامات کو بھی معطل کر دیا۔

عدالتی احکامات اور جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ایڈمنسٹریٹو کمیٹی نے وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں کیسز کو سماعت کے لیے مقرر کرنے سے روک دیا ہے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ 12 اکتوبر یا اس کے بعد دائر ہونے والی تھری ایم پی او کی رٹ پٹیشنز سماعت کے لیے مقرر نہیں کی جائیں گی، اور متاثرہ فریقین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس حوالے سے متعلقہ مجاز فورم سے رجوع کریں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں