گولارچی ( نمائندہ جسارت) سرکاری راشن کی تقسیم کے معاملے پر انتظامیہ اور یونین کونسل چیئرمینوں کے درمیان ٹھن گئی۔ اس سلسلے میں ضلع بھر کی متعدد یونین کونسلوں کے چیئرمین اپنی حکومت کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے اور سرکاری راشن کی تقسیم کے لیے بنائی گئی کمیٹیوں سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ۔اس ضمن میں گولارچی میں یونین کونسل احمد راجو، کھورواہ،احمد شاہ گراری، کھورواہ چوک کے چیئرمینوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بیس ہزار آبادی والی یونین کونسل میں صرف 88 راشن بیگ دے رہی ہے جو انتہائی کم اور ظلم ہے انتظامیہ نے انہیں پہلے سروے کرکے 390 مستحقین فی یونین کونسل نام دینے کو کہا تھا جسے اب صرف 88 کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو امداد دینے کا اعلان کیا گیا ہے وہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مصداق بھی نہیں اور اسے تقسیم کرکے وہ عوام کو لڑانا نہیں چاہتے۔ پریس کانفرنس کرنے والے چیئرمین چودھری ولایت لک، نوید میمن، حاجی ثنا اللہ جت، رسول بخش نوحانی،غلام مصطفی لونداور غلام رسول جت و دیگر نے خود کو حکومتی سروے کمیٹیوں سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے راشن کی تقسیم کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نہ تو اتنی کم امداد لیں گے اور نہ ہی تقسیم کی جائے گی۔ دوسری جانب اسسٹنٹ کمشنر گولارچی ذوالفقار نظامانی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ضلع انتظامیہ کو سندھ حکومت کی جانب سے دو کروڑ ملے ہیں جسے مساوی تقسیم کیا جارہا ہے جبکہ پہلے مرحلے میں شہری علاقوں میں امداد دی جائے گی اور دوسرے مرحلے میں دیہی علاقے آئیں گے۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- بڑھتی مہنگائی، بڑھتا قرض، گھٹتی کمائی، مودی حکومت میں متوسط طبقے کے حصے میں آئی صرف تباہی: جے رام رمیش
- ٹرینوں میں رات 11 بجے سے صبح 5 بجے تک نہیں کیا جا سکے گا موبائل چارج، ریلوے نے جاری کی ہدایت
- جنسی ہراسانی معاملہ: عدالت نے برج بھوشن شرن سنگھ کو جواب داخل کرنے کا آخری موقع دیا
- ’حکومت ہی فیصلہ کرے گی‘، مردم شماری میں او بی سی ذاتوں کی الگ فہرست کے مطالبے پر سپریم کورٹ کا تبصرہ
- ہردیپ پوری پھر جائیں گے راجیہ سبھا، بی جے پی نے مدھیہ پردیش سے بنایا امیدوار