میانمار میں فوجی بغاوت کےبعد احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، ینگون میں ہزاروں مظاہرین فوجی بغاوت کیخلاف مارچ کر رہےہیں۔
ینگون میں حکام کی جانب سے مظاہرین کو دھمکی دی گئی ہے کہ پرتشدد مظاہروں میں جان بھی جاسکتی ہے اس کے باوجود ہزارو ں مظاہرین فوجی آمریت کیخلاف احتجاجی ریلی میں شریک ہیں۔
فوجی بغاوت کیخلاف ہونے والےمظاہروں میں اب تک تین مظاہرین ہلاک ہوچکےہیں۔
میانمار: ینگون سمیت کئی شہروں میں احتجاج، منڈالے میں پولیس فائرنگ، دو مظاہرین ہلاک

میانمارمیں فوجی آمریت کیخلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، ینگون سمیت مختلف شہروں میں آج بھی احتجاج کیا گیا، منڈالے میں پولیس کی فائرنگ سے دو مظاہرین ہلاک ہوگئے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے میانمار میں پرتشدد واقعات کی مذمت کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ نے فوج کے زیرِ اہتمام چلنے والی ایک نیوز ویب سائٹ کا پیج ہٹا دیا۔
منڈالے میں گزشتہ روز پولیس نے مظاہرین کی ریلی پر فائرنگ کی جس میں دو افراد ہلاک اور 30 افراد زخمی ہوگئے۔
دارالحکومت نیپڈا میں فائرنگ میں ہلاک ہونے والی نوجوان خاتون کی آخری رسومات میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔
ینگون میں بھی مختلف مقامات پر بڑی تعداد میں شہری مظاہروں میں شریک ہوئے۔
میانمار میں فوجی بغاوت کیخلاف احتجاج کرنے والوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے، اور زیر حراست افراد کی تعداد 570 تک جا پہنچی ہے۔
منبع: جنگ نیوز