ملک بھر میں بجلی کے بحران نے شدت اختیار کر لی ہے جہاں 8 سے 16 گھنٹے تک طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث شہری شدید گرمی میں سخت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق توانائی کے شعبے سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی کی طلب اور رسد کے درمیان فرق خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، جس نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک میں بجلی کی طلب تقریباً 22 ہزار میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے جبکہ پیداوار صرف 15 ہزار 400 میگاواٹ کے قریب ہے، جس کے نتیجے میں 6 ہزار 500 میگاواٹ کا شارٹ فال پیدا ہو گیا ہے۔ یہ فرق ملک کے مختلف علاقوں میں طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ کا سبب بن رہا ہے، جس سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
بجلی کی پیداوار کے ذرائع کا جائزہ لیا جائے تو پن بجلی سے تقریباً 1500 میگاواٹ، تھرمل ذرائع سے 9250 میگاواٹ، ونڈ پاور سے 1200 میگاواٹ، نیوکلیئر ذرائع سے 2850 میگاواٹ جبکہ سولر اور بیگاس سے بالترتیب 400 اور 200 میگاواٹ بجلی حاصل ہو رہی ہے۔ اس کے باوجود مجموعی پیداوار طلب کو پورا کرنے میں ناکام ہے، جس کے باعث لوڈشیڈنگ ناگزیر ہو گئی ہے۔
دریں اثنا لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی صورتحال تشویشناک ہے جہاں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کو مزید مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔
لیسکو ریجن میں رات کے اوقات میں بجلی کی شدید قلت دیکھی گئی، جہاں بعض علاقوں میں ہر گھنٹے کے بعد ایک گھنٹہ بجلی بند کیے جانے کی شکایات سامنے آئیں۔
ذرائع کے مطابق گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس کی پیداوار میں کمی اور ایندھن کی قلت کے باعث بجلی کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے، جس سے بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔ لیسکو کو رات کے اوقات میں تقریباً 1000 میگاواٹ شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا جبکہ طلب 2900 میگاواٹ تک پہنچ گئی، جس نے سپلائی سسٹم پر دباؤ بڑھا دیا۔
دیہی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 8 گھنٹے سے بھی تجاوز کر چکا ہے جبکہ شہری علاقوں میں کم وولٹیج کی شکایات بھی بڑھتی جا رہی ہیں، جس سے گھریلو اور تجارتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو بجلی کا یہ بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے، جس کے باعث عوامی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔