لاہور: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خبردار کیا ہے کہ خلیجی ممالک کو سمجھنا ہوگا کہ امریکی فوجی اڈے ان کے لیے دفاعی فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن رہے ہیں، جبکہ حکمرانوں کو ملنے والا عروج عارضی ہوتا ہے۔
لاہور میں سینئر صحافیوں اور اینکرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے مشرق وسطیٰ، خلیجی خطے اور ملکی سیاسی صورتحال پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں، کیونکہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو بڑی طاقتیں بھی اس میں شامل ہو سکتی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے دنیا کو ممکنہ بڑی جنگ سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔
سربراہ جے یو آئی نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے، تاہم تحریک انصاف کے ساتھ رابطے کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔ انہوں نے سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی معاہدے کو مثبت قرار دیا۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) عمران خان کے دور میں بند ہوا اور اب تک بند ہے، سوال یہ ہے کہ اب تک کیوں بند ہے اور پالیسی میں تسلسل کون لا رہا ہے، سی پیک اور چین تعلقات کے حوالے سے ہم وہیں کھڑے ہیں۔
انتخابی عمل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2018 اور 2024 کے انتخابات میں مماثلت ہے اور دھاندلی کے الزامات اداروں پر لگنا ایک تشویشناک رجحان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں دھاندلی کے الزامات سیاستدانوں پر لگتے ہیں، پاکستان میں اداروں پر لگتے ہیں اور اسے طاقت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق قانون سازی کے باوجود عملی پیش رفت نہیں ہو رہی، مدارس کے بینک اکاؤنٹس نہیں کھولے جا رہے اور انہیں سرکاری بورڈز میں شامل ہونے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عالمی نظام میں تبدیلی آ رہی ہے اور سرمایہ داریت، آمریت اور عسکریت کے امتزاج سے دنیا چل رہی ہے، جبکہ کمیونزم اور جمہوریت اپنی اصل شکل میں باقی نہیں رہے۔