واشنگٹن / بیروت: امریکی محکمہ جنگ کی جانب سے امریکی کانگریس کو آگاہ کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے مبینہ طور پر بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو ہٹانے میں تقریباً چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق حکام نے بتایا ہے کہ ایسی کسی بھی صفائی یا آپریشن کا آغاز اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی یا ممکنہ تنازع مکمل طور پر ختم نہ ہو جائے، اس صورتحال کے باعث عالمی توانائی اور تجارتی راستوں پر اثرات رواں سال کے آخر یا اس سے آگے تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے جہاں اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں مختلف علاقوں پر حملے کیے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم چار افراد جاں بحق اور ایک صحافی سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فورسز نے ایک گاؤں اور ایک گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اسی دوران لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیلی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے،جنوبی لبنان کے علاقے قنطرہ میں ایک اسرائیلی فوجی گاڑی کو ڈرون حملے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا،یہ کارروائی اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے جواب میں کی گئی ہے۔