آبنائے ہرمز: بحری انٹیلی جنس ادارے وینگارڈ کاکہنا ہےکہ آبنائے ہرمز میں ایک اورامریکی و اسرائیلی حمایت یافتہ کارگو جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے بعد متاثرہ جہازوں کی مجموعی تعداد تین ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاناما کے پرچم بردار کارگو جہاز ایم ایس سی فرانسسکا اس وقت حملے کی زد میں آیا جب وہ آبنائے ہرمز سے نکل کر خلیج عمان کی جانب بڑھ رہا تھا، یہ واقعہ ایران کے ساحل سے تقریباً چھ ناٹیکل میل کے فاصلے پر پیش آیا۔
ذرائع کے مطابق جہاز کو پاسداران انقلاب کی جانب سے روکا گیا اور لنگر انداز ہونے کا حکم دیا گیا جبکہ بعض اطلاعات میں فائرنگ کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس سے جہاز کے ڈھانچے اور رہائشی حصے کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، آزاد ذرائع سے اس کی مکمل تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ واقعات میں تین جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں سے دو کو قبضے میں لے کر ایرانی سمندری حدود میں جانچ کے لیے منتقل کیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ایک جہاز “یوفوریا” کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جو اب ایران کے ساحل کے قریب پھنس گیا ہے جبکہ ایم ایس سی فرانسسکا اور ایپامینونڈاس نامی جہازوں کو تحویل میں لے کر ایرانی ساحل کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے،رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فائرنگ سے قبل متعلقہ جہازوں کو وارننگ دی گئی تھی۔
ابتدائی معلومات کے مطابق جن جہازوں کے متاثر ہونے کی بات کی جا رہی ہے ان میں ایک یونان، ایک متحدہ عرب امارات اور ایک پاناما کا جہاز شامل ہے متعلقہ ممالک کی جانب سے ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔