واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو درپیش کرپشن مقدمات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزویگ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کو فوری طور پر صدارتی استثنا دے کر ان تمام قانونی معاملات سے بری الذمہ قرار دیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے پر اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نے انہیں ٹیلی فون پر بتایا کہ غزہ جنگ جیسے مشکل اور حساس دور میں بھی انہیں بار بار عدالتوں کے چکر کاٹنے پڑ رہے ہیں جو کہ کسی بھی طور پر درست عمل نہیں ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ جنگی حالات میں ملک کے سربراہ کا اس طرح قانونی مقدمات میں الجھنا قومی مفاد میں نہیں ہے، اس لیے نیتن یاہو کو پلی بارگین کی پیشکش کے بجائے مکمل صدارتی معافی ملنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو ایک جنگی دور کے رہنما ہیں۔
امریکی صدر نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزویگ پر زور دیا کہ اگر وہ وزیراعظم کو ان مقدمات سے معاف کر دیں تو یہ اقدام انہیں اسرائیل کا قومی ہیرو بنا سکتا ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان ان کے سابقہ سخت مؤقف کے برعکس ایک نرمی کی جانب اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر نیتن یاہو کو معافی نہ دینے پر اسرائیلی صدر پر تنقید بھی کر چکے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اس وقت کرپشن اور غیر قانونی تحائف لینے جیسے سنگین الزامات کی زد میں ہیں جس کی وجہ سے ان کی سیاسی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے لیے ان مقدمات سے بچنے کا واحد راستہ اب صدارتی معافی ہی دکھائی دیتا ہے۔ اگر انہیں قانونی استثنا نہ ملا تو یہ مقدمات ان کے سیاسی مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ اسرائیل کی داخلی سیاست میں بھی تناؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔