ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران امریکا سے اپنے نقصانات کا ہرجانہ لیے بغیر پیچھے نہیں ہٹے گا، امریکا آبنائے ہرمز کھولنے کے دکھاوے والے اقدامات کے ذریعے خطے میں اپنی ذمہ داریوں سے بچنا چاہتا ہے، ایران اس طرح کی کسی بھی حکمت عملی کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔
عرب میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں محسن رضائی نے مؤقف اختیار کیا کہ اگرچہ امریکی فوجی خطے سے نکل جائیں، ایران اپنے حقوق اور نقصانات کے ازالے کا مطالبہ جاری رکھے گا، امریکا کو ایران کو پہنچائے گئے تمام نقصانات کا ہرجانہ ادا کرنا ہوگا اور اس حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، دونوں رہنماؤں کے درمیان خطے کی تازہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
گفتگو کے دوران دونوں ممالک نے خطے میں استحکام برقرار رکھنے، کشیدگی کو کم کرنے اور کسی بھی ممکنہ تصادم سے بچنے کے لیے مسلسل رابطے اور سفارتی کوششوں پر زور دیا،مسائل کا حل جنگ یا تصادم کے بجائے سفارتکاری اور تعمیری علاقائی تعاون کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔
ادھر ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کے گورنر نے اعلان کیا ہے کہ 9 مئی سے تہران میں تمام حکومتی وزارتیں اور ادارے 100 فیصد صلاحیت کے ساتھ اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں گے۔ اسی طرح تعلیمی اداروں، اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں کلاسز اور تعلیمی سرگرمیاں وزارت تعلیم اور وزارت سائنس کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق جاری رہیں گی۔
خطے میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی اور سفارتی سرگرمیوں کے درمیان ایران کی جانب سے یہ بیانات اور اقدامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب علاقائی اور عالمی سطح پر صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔