ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان نئے بجٹ اہداف پر اختلافات برقرار

اسلام آباد: پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان نئے مالی سال کے بجٹ اہداف اور میکرو اکنامک فریم ورک پر اتفاق رائے نہ ہو سکا اور اختلافات بدستور برقرار ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان معاشی اشاریوں پر گہری خلیج پائی جاتی ہے جس کے باعث بجٹ کی تیاری کا عمل پیچیدہ ہو چکا ہے۔

عالمی مالیاتی فنڈ نے وفاقی اور صوبائی سطح پر محصولات میں نمایاں اضافے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ فنڈ کی جانب سے صوبائی حکومتوں کو خصوصی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئندہ مالی سال کے دوران اپنے ریونیو میں کم از کم 40 فیصد تک اضافہ یقینی بنائیں۔

حکومت پاکستان نے آئندہ بجٹ کے لیے مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو کا ہدف 4.1 فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔ تاہم آئی ایم ایف کے معاشی ماہرین نے اس ہدف کو غیر حقیقی قرار دیتے ہوئے اس کے 3.5 فیصد تک رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق بجٹ میں 860 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی بازگشت ہے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات پر دی جانے والی سبسڈی کو بھی مکمل ختم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے عوام پر مہنگائی کا بوجھ بڑھنے کا شدید خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

حکومتی تجاویز میں زراعت، پراپرٹی اور سروسز کے شعبوں سے 400 ارب روپے کے اضافی ٹیکس وصول کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ پرائمری سرپلس کا ہدف جی ڈی پی کے 2 فیصد تک برقرار رکھنے پر بھی سنجیدگی سے مشاورت کی جا رہی ہے۔

آئندہ مالی سال کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 4 ارب ڈالر تک جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح درآمدات 70 ارب ڈالر اور تجارتی خسارہ بڑھنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ معیشت کو سہارا دینے کے لیے ترسیلات زر پر انحصار بدستور رہے گا جو 42 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں