مقبوضہ بیت المقدس: ایرانی حملوں کے نتیجے میں اسرائیل کے متعدد اہم فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات کی سیٹلائٹ تصاویر سامنے آگئی ہیں جن سے جنگی صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ان تصاویر کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوا کہ اسرائیل کی فوجی تنصیبات کو شدید ضرب لگی ہے۔
سینٹینل ٹو سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تازہ تصاویر سے انکشاف ہوا ہے کہ رمات ڈیوڈ ائیر بیس کو 2 مختلف مقامات پر نشانہ بنایا گیا۔ حملے کا ایک ہدف سپورٹ گاڑیوں اور آلات کا علاقہ تھا جبکہ دوسرا حصہ لڑاکا طیاروں کو ایندھن اور سروسنگ فراہم کرتا تھا۔
مزید تصاویر میں نیواتیم ائیر بیس کے ایک دفاعی مقام کو بھی نقصان پہنچنے کے واضح شواہد ملے ہیں۔ یہ ائیر بیس اسرائیل کے لیے اسٹریٹجک اہمیت کی حامل ہے جہاں جدید ترین طیارے تعینات رہتے ہیں، لہذا اس کا متاثر ہونا اسرائیلی دفاعی نظام کے لیے بڑا سوال ہے۔
سیٹلائٹ ڈیٹا سے صفد کے قریب واقع اسرائیلی فوج کے مشہر بیس کے اندر بھی غیر معمولی تبدیلیوں کا پتا چلا ہے۔


یونٹ 8200 کی اس تنصیب میں مارچ کے اوائل میں ہونے والی تبدیلیاں کسی خفیہ حملے کی نشاندہی کرتی ہیں جس سے سکیورٹی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
اسی طرح کیمپ شمشون میں بھی 10 مارچ سے لگنے والی بڑی آگ کے نشانات بھی سیٹلائٹ تصاویر میں نمایاں ہیں۔ تجزیے کے مطابق یہ آگ کئی روز تک اڈے کے اندر تقریباً 200 میٹر کے وسیع علاقے میں پھیلتی رہی جس سے تنصیبات کو کافی نقصان پہنچا ہے۔
واقعے کے روز حزب اللہ نے کیمپ شمشون پر ڈرون حملے کا دعویٰ کیا تھا۔ سیٹلائٹ تصاویر نے اس دعوے کی تصدیق کر دی ہے کیونکہ آگ لگنے کا وقت اور حملے کا دورانیہ بالکل مماثل ہے۔ ان تصاویر نے اسرائیلی فوجی تنصیبات کے تحفظ پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تصاویر سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایران اور اس کے اتحادیوں کے حملے پہلے کے مقابلے میں زیادہ مربوط اور درست ہدف پر مبنی تھے۔ اسرائیل کی جانب سے ان نقصانات پر تاحال کوئی تفصیلی موقف سامنے نہیں آیا، تاہم تصاویر نے زمینی حقائق کو بے نقاب کر دیا ہے۔