نئی دہلی: آئی ڈی بی آئی بینک کے افسران اور ملازمین کی یونین نے کینیڈا کے فیئر فیکس فنانشیل ہولڈنگز گروپ کو بینک کی مجوزہ فروخت کے خلاف 2 اور 3 نومبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ یونین نے اس سلسلے میں بینک انتظامیہ کو نوٹس بھی دے دیا ہے۔ احتجاج کے دوران بینک کی تمام شاخوں اور دفاتر میں ملازمین حصہ لیں گے۔
یونین کے جاری کردہ بیان کے مطابق، دو روزہ ملک گیر بھوک ہڑتال کا مقصد اس مجوزہ سودے کو روکنا ہے، جس کے تحت حکومت اور لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا (ایل آئی سی) کی بینک میں حصے داری کم کر کے انتظامی کنٹرول فیئر فیکس گروپ کے حوالے کیا جائے گا۔
آل انڈیا آئی ڈی بی آئی آفیسرز ایسوسی ایشن اور آل انڈیا انڈسٹریل ڈیولپمنٹ بینک ایمپلائیز ایسوسی ایشن پر مشتمل یونین نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت بینک کی مجوزہ فروخت پر روک لگائے اور آئی ڈی بی آئی بینک میں کم از کم 6 فیصد اضافی حصے داری خریدے۔ یہ حصے داری ایل آئی سی سے یا کھلی مارکیٹ کے ذریعے حاصل کی جاسکتی ہے، تاکہ بینک میں حکومت کی مجموعی حصے داری کم از کم 51 فیصد برقرار رہے۔
یونین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے دسمبر 2003 میں پارلیمنٹ میں حکومت کی جانب سے دیے گئے اس یقین دہانی کا احترام ہوگا، جس میں بینک میں اکثریتی حصے داری برقرار رکھنے کی بات کہی گئی تھی۔
ملازمین کی تنظیم نے حکومت سے تحریری اور قانونی طور پر پابند یقین دہانی کا بھی مطالبہ کیا ہے کہ نجکاری کی صورت میں ملازمین کی موجودہ ملازمت کی شرائط، فلاحی سہولتوں، پنشن کے فوائد اور ریزرویشن کی پالیسیوں کا تحفظ کیا جائے گا۔
یونین نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ اگر بینک کی فروخت کا عمل آگے بڑھتا ہے تو موجودہ ملازمین اور افسران کو سرکاری شعبے کے بینکوں میں منتقل ہونے کا اختیار دیا جائے۔ اس دوران ان کی ملازمت کی مدت، تنخواہ، پے اسکیل، سینیارٹی اور ریٹائرمنٹ سے متعلق فوائد محفوظ رہنے چاہئیں۔ اس کے علاوہ بینک میں کام کرنے والے آؤٹ سورس اور کنٹریکٹ ملازمین کو بھی مناسب طور پر ایڈجسٹ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یونین نے کہا کہ بینک کی مالی حالت میں بہتری کے باوجود اس کی فروخت سے اس کے سرکاری شعبے کے کردار پر اثر پڑے گا۔ تنظیم نے نجکاری کے ممکنہ اثرات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کھاتہ داروں، کسانوں، چھوٹے قرض لینے والوں اور ملازمین کے مفادات متاثر ہو سکتے ہیں۔ یونین کے مطابق، آئی ڈی بی آئی بینک نے صنعتی ترقی، مالی شمولیت اور سماجی تحفظ سے متعلق سرکاری فلاحی اسکیموں کے نفاذ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
تنظیم نے بینک ملازمین، ٹریڈ یونینوں، صارفین، کھاتہ داروں اور شہری سماج کی تنظیموں سے تحریک کی حمایت کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس نے حکومت اور بینک انتظامیہ سے بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مطالبات تسلیم نہ کیے جانے کی صورت میں احتجاج کو مزید تیز کیا جاسکتا ہے، جس میں طویل مدتی یا غیر معینہ مدت کی ہڑتال بھی شامل ہے۔