’تاکہ کوئی قانونی کارروائی نہ ہو سکے‘، انکیتا قتل واقعہ کے ملزم دشینت گوتم کی حلف برداری پر کانگریس کا سخت ردعمل

سکم کے نومنتخب گورنر دشینت گوتم نے پیر (19 اکتوبر) کو گنٹوک واقع لوک بھون میں گورنر کے عہدے کا حلف لیا۔ اس موقع پر ریاست کے کئی اعلیٰ افسران اور سرکردہ شخصیات موجود رہیں۔ دشینت کمار گوتم بی جے پی کے سینئر لیڈر ہیں۔ گورنر بنائے جانے سے قبل وہ پارٹی کے قومی سکریٹری رہ چکے ہیں اور ہریانہ سے راجیہ سبھا رکن بھی رہے ہیں۔ انہیں سکم ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد مشتاق نے حلف دلایا۔ اس حلف برداری تقریب میں وزیر اعلیٰ پریم سنگھ تمانگ، کابینہ کے وزراء اور ریاست کے اراکین اسمبلی موجود رہے۔ ان کا نام اتراکھنڈ کے انکیتا بھنڈاری قتل سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انکیتا بھنڈاری کے والدین اور کانگریس لیڈران نے اس معاملے میں سی بی آئی تحقیقات مکمل ہونے تک دشینت گوتم کو گورنر نہ بنائے جانے کا معاملہ اٹھایا تھا۔

دشینت گوتم کی حلف برداری کے بعد کانگریس نے بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ کماری شیلجا نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’سکم کے راج بھون میں ایک ایسے شخص کو بٹھایا جا رہا ہے، جس کا نام ایک بہت بڑے اسکینڈل کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ انکیتا بھنڈاری کیس نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، لیکن اسے آج تک انصاف نہیں ملا۔ اس معاملے میں بی جے پی کے لوگوں کی آڈیو آئی اور وی آئی پی کا نام آیا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں یہ جھنجھنا تھامایا جاتا ہے کہ سی بی آئی تحقیقات کر رہی ہے، لیکن سی بی آئی نے کبھی بھی اس کیس کے تمام پہلوؤں پر جانچ نہیں کی۔ وی آئی پی کے طور پر جس دشینت گوتم کا نام آیا، اس سے پوچھ تاچھ ہی نہیں ہوئی، الٹا اسے راج بھون میں بٹھایا جا رہا ہے تاکہ کوئی قانونی کارروائی نہ ہو سکے۔‘‘

اتراکھنڈ کانگریس کے ریاستی صدر گنیش گودیال نے دشینت گوتم کی حلف برداری پر کہا کہ ’’انکیتا بھنڈاری قتل معاملے میں جس پر سوال تھے، انہیں سکم کا گورنر بنایا گیا ہے اور کل میں ان کا بیان سنا جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ اس معاملے میں قصورواروں کو سزا ہو چکی ہے۔ لیکن یہ آدھی ادھوری جانکاری ہے، جن کو سزا ہوئی ہے وہ چھوٹی مچھلیاں ہیں۔ انکیتا نے اپنے ایک دوست کو میسج کیا تھا کہ مجھ پر کسی وی آئی پی کو سروس دینے کا دباؤ بنایا جا رہا ہے۔ میری جان خطرے میں ہے اور اس کے بعد ہی انکیتا کا قتل کر دیا گیا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’اس معاملے میں بی جے پی حکومت نے ہر طرح کے بہانے بنائے۔ یہ بھی کہا کہ کوئی وی آئی پی نہیں تھا۔ لیکن ان کی پارٹی کے لوگوں نے ہی الزام عائد کیا تھا کہ جو گورنر بنے ہیں وہی مبینہ وی آئی پی ہیں۔ مبینہ وی آئی پی کو سکم کا گورنر بنایا ہی اسی لیے گیا ہے، تاکہ ان سے پوچھ تاچھ نہ کی جا سکے۔ ہم اس کی پرزور مخالفت کرتے ہیں۔ دوسری جانب بی جے پی والے جو صفائی دے رہے ہیں وہ اتراکھنڈ کو بتا دیں کہ وہ وی آئی پی کون تھا؟‘‘

کانگریس نے بھی اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل سے ایک ویڈیو پوسٹ کر بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ویڈیو کے کیپشن میں پارٹی نے لکھا ’بی جے پی کا طرز عمل، کردار اور چہرہ‘۔ ویڈیو میں ایک طرف انکیتا بھنڈاری قتل کے مبینہ ملزم دشینت کمار کی حلف برداری ہو رہی ہے دوسری طرف انکیتا کے والدین انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے آہ و بکا کر رہے ہیں۔ پارٹی نے ویڈیو میں انکیتا کے والدین کی جانب اوپر میں لکھا ’انصاف کے لیے بلکتے اہل خانہ‘ دشینت گوتم کے لیے لکھا ’حلف لیتے ملزم دشینت‘۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں