نئی دہلی: ووٹ چوری کے خلاف آواز بلند کرنے اور انتخابی عمل کی شفافیت کا مطالبہ کرنے کے لیے اتوار کو دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں انڈیا اتحاد کی جانب سے منعقدہ ’ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ‘ مہاریلی میں غیر معمولی بھیڑ دیکھنے کو ملی۔ ملک کے مختلف حصوں سے ہزاروں کی تعداد میں پہنچنے والے لوگوں نے اس اجتماع کو ایک بڑے سیاسی مظاہرے کی شکل دے دی۔ ریلی کے دوران رام لیلا میدان ہی نہیں بلکہ اس کے اطراف کی سڑکیں، چوراہے اور فلائی اوور بھی نعروں سے گونجتے رہے۔ منتظمین اور شرکا کے مطابق کئی دہائیوں بعد دہلی کی سڑکوں پر کسی ایک سیاسی مسئلے کو لے کر اس قدر بڑے پیمانے پر عوامی حمایت دیکھنے کو ملی۔
تصاور: رام لیلا میدان میں جمع لوگوں کا وسیع منظر
ریلی کے آغاز سے پہلے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی، سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو، ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی، آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو، این سی پی (شرد پوار گروپ) کی رہنما سپریا سولے، نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ، شیوسینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) کے رہنما سنجے راوت، سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ڈی راجا، پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی اور سی پی ایم کے رہنما ایم اے بے بی سمیت مختلف جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں نے ایک بڑا مارچ نکالا۔
اس مارچ میں ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو، تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی اور کیرالہ کے رہنما وی ڈی ستیشن سمیت 20 سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ مارچ منٹو روڈ سے شروع ہوکر رام لیلا میدان تک پہنچا۔ سینئر رہنما کھلی گاڑیوں میں سوار تھے، جب کہ ان کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں کارکن اور حامی بھی چل رہے تھے۔ سڑک کے دونوں جانب لوگوں کی بڑی تعداد اپنے رہنماؤں کا استقبال کرنے کے لیے موجود تھی۔
شرکا کی غیر معمولی تعداد کے باعث مارچ کو رام لیلا میدان تک پہنچنے میں تقریباً تین گھنٹے لگ گئے۔ جب مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما میدان میں قائم اسٹیج پر ایک ساتھ پہنچے اور ہاتھ اٹھا کر عوام کا استقبال کیا تو اپوزیشن اتحاد کی مشترکہ سیاسی طاقت کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ اس منظر نے وہاں موجود لوگوں کے جوش و خروش میں مزید اضافہ کردیا۔
تصاویر: اپوزیشن رہنماؤں کا کھلی گاڑیوں میں مارچ اور عوام کا استقبال
کئی ریاستوں سے دہلی پہنچے لوگ، میدان سے دور تک دکھائی دیا ہجوم
مہاریلی میں شرکت کے لیے ملک کے مختلف حصوں سے لوگوں کی آمد کا سلسلہ ہفتے کی رات ہی سے شروع ہوگیا تھا۔ اتوار کی صبح ہوتے ہوتے رام لیلا میدان اور اس کے اطراف کے علاقوں میں لوگوں کی تعداد مسلسل بڑھنے لگی۔ میدان کے علاوہ قریبی سڑکوں، چوراہوں اور فلائی اوور کے آس پاس بھی لوگوں کا ہجوم دکھائی دے رہا تھا۔
شرکا کے ہاتھوں میں قومی پرچم، مختلف سیاسی جماعتوں کے جھنڈے، بینر اور پوسٹر تھے۔ لوگ ’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘ اور ’ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ‘ کے نعرے لگاتے ہوئے ریلی کی جانب بڑھ رہے تھے۔ مختلف ریاستوں سے آئے مظاہرین اپنے اپنے علاقوں کے مسائل اور انتخابی فہرستوں سے متعلق شکایات بھی ساتھ لے کر پہنچے تھے۔
کرناٹک سے آئے مظاہرین کا ایک بڑا بینر خاص طور پر توجہ کا مرکز بنا۔ کئی میٹر طویل اس کپڑے کے بینر پر ان ووٹروں کے نام درج تھے جن کے مطابق ان کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کردیے گئے تھے۔ اس طرح مظاہرین نے محض نعروں کے بجائے اپنے دعوؤں اور شکایات کو بھی عوام کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی۔
سیاسی کارکنوں سے آگے بڑھ کر سماجی طبقوں کی شرکت
اس مہاریلی کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی رہی کہ اس میں صرف سیاسی جماعتوں کے کارکن اور حامی ہی شامل نہیں تھے بلکہ سماج کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سادھو سنتوں، نوجوانوں، طلبہ، خواتین، دانشوروں اور سماجی کارکنوں کی موجودگی نے اس اجتماع کو ایک وسیع سماجی مظاہرے کی شکل دے دی۔
مختلف ریاستوں سے آئے لوگوں نے اپنے روایتی لباس زیب تن کیے ہوئے تھے، جس سے ریلی میں ہندوستان کی ثقافتی اور سماجی رنگارنگی بھی نمایاں ہوئی۔ کئی مقامات پر لوگوں نے اپنے روایتی انداز میں احتجاج درج کرایا۔ کہیں ڈھول اور نقاروں کی تھاپ پر لوگ رقص کرتے نظر آئے تو کہیں ڈفلی اور لوک گیتوں کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کیا گیا۔
احتجاج کا یہ انداز محض سیاسی نعروں تک محدود نہیں رہا۔ مختلف مقامات پر فنکاروں نے نکڑ ناٹک پیش کیے اور کارٹونوں پر مشتمل بینروں کے ذریعے انتخابی بے ضابطگیوں اور ووٹروں کے حقوق سے متعلق سوالات اٹھائے۔ ان ثقافتی مظاہروں نے ریلی کو ایک الگ شناخت دی۔ ڈھول کی تھاپ، لوک گیتوں اور نعروں کی آواز رام لیلا میدان سے دور تک سنائی دیتی رہی۔
تصاویر: روایتی لباس میں شریک مظاہرین اور ثقافتی پروگرام پیش کرتے فنکار
ووٹ کے حق اور انتخابی شفافیت کا مطالبہ
انڈیا اتحاد کی اس مہاریلی کا بنیادی مقصد چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج درج کرانا اور انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹوں پر نظرثانی کے عمل کے دوران بڑی تعداد میں اہل ووٹروں کے نام حذف کیے گئے ہیں، جس سے ان کے حق رائے دہی پر اثر پڑ رہا ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں نے اس معاملے کو جمہوریت اور آئینی حقوق سے جوڑتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے ووٹ کے تحفظ کے لیے آواز بلند کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات جمہوری نظام کی بنیادی ضرورت ہیں اور انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رہنا چاہیے۔
ریلی میں مختلف ریاستوں سے آئے لوگوں کی شرکت نے اس مسئلے کو قومی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کو مزید تقویت دی۔ کرناٹک کے مظاہرین کے بینر سے لے کر مختلف ریاستوں کے کارکنوں کے نعروں تک، ہر جگہ انتخابی فہرستوں اور ووٹ کے حق کا معاملہ نمایاں رہا۔
ووٹ چوری کے خلاف بینر اور پوسٹر اٹھائے مظاہرین
عوامی تعاون اور سوشل میڈیا پر بھی چھائی ریلی
ریلی میں شرکت کے لیے آنے والے لوگوں کو عام شہریوں کی جانب سے بھی تعاون ملا۔ منتظمین کے مطابق کئی آٹو اور ٹیکسی ڈرائیوروں نے مظاہرین کو مفت رام لیلا میدان تک پہنچایا۔ اس طرح سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے علاوہ مقامی شہریوں کی جانب سے بھی ریلی کے شرکا کی مدد کی گئی۔
بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی کے باوجود منتظمین نے نظم و ضبط برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن اپنے اپنے جھنڈوں اور بینروں کے ساتھ موجود رہے اور ریلی کے دوران مسلسل نعرے بازی کرتے رہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد کے باوجود اجتماع کو منظم رکھنے کے لیے کارکنوں نے اہم کردار ادا کیا۔
اس مہاریلی کا اثر سوشل میڈیا پر بھی نمایاں طور پر دکھائی دیا۔ دن بھر ریلی سے متعلق تصاویر، ویڈیوز اور مختلف ثقافتی مظاہروں کی جھلکیاں سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر شیئر کی جاتی رہیں۔ شرکا نے اپنے اپنے علاقوں اور ریاستوں سے آنے والے لوگوں کی موجودگی کو بھی نمایاں کیا۔ سیاسی جماعتوں کے حامیوں کے علاوہ عام شہریوں نے بھی ریلی کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرکے اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔
رام لیلا میدان ریلی میں شرکا اور اسٹیج کا منظر
سیاسی مبصرین کے مطابق انڈیا اتحاد کی اس مہاریلی کو محض ایک سیاسی اجتماع کے طور پر دیکھنا کافی نہیں ہوگا۔ انتخابی عمل کی شفافیت، ووٹر لسٹوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور چیف الیکشن کمشنر کے کردار پر اٹھنے والے سوالات نے اسے ایک بڑے سیاسی مباحثے کا حصہ بنا دیا ہے۔ اس ریلی کے ذریعے اپوزیشن نے مشترکہ طور پر یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ ووٹ کے حق اور انتخابی نظام سے متعلق معاملات پر وہ متحد ہوکر جدوجہد کرنے کے لیے تیار ہے۔
اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ رام لیلا میدان سے اٹھنے والی یہ آواز آنے والے دنوں میں کس حد تک ملک گیر سیاسی تحریک کی شکل اختیار کرتی ہے اور انتخابی اصلاحات سے متعلق جاری بحث پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔