شام اور عراق کی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے پروازیں
اسرائیل نے ایران کے ساتھ ممکنہ طور پر ایک اور جنگ چھڑنے کے خدشے کے پیش نظر اپنی عسکری سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق فوج نے دفاعی اقدامات کے ساتھ ممکنہ حملوں کی حکمت عملی پر بھی کام مکمل کرلیا ہے اور اب عملی مشقوں کے ذریعے جنگی تیاریوں کو جانچا جا رہا ہے۔
اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فضائیہ کے درجنوں جنگی طیاروں نے شام اور عراق کی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے ایران کی جانب پروازیں کیں۔ ان مشقوں کا بنیادی مقصد ایران پر ممکنہ فضائی حملوں کے لیے راستوں اور آپریشنل منصوبہ بندی کی مشق کرنا تھا۔
رپورٹ میں اسرائیلی سیاسی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے تاحال ایران کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آئندہ لائحہ عمل فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھتے ہیں یا اسرائیل کے ساتھ مل کر نئی فوجی کارروائیوں کی منظوری دیتے ہیں۔
اخبار کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر بھی ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے منصوبے صدر ٹرمپ کو پیش کرچکے ہیں، تاہم امریکا کی جانب سے فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ادھر،نتن یاہو کے سرکردہ مخالف،اسرائیلی پارٹی ڈیموکریٹس کے سربراہ اور اسرائیلی فوج کے سابق نائب چیف آف اسٹاف یائر گولان نے زور دے کر کہا کہ ایران کے ساتھ نئے تصادم کے امکانات بڑھ رہے ہیں، انہوں نے خبردار کیا کہ نتن یاہو اس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
ایکس (X) پر گولان کا کہناہے کہ ہم ایران کے ساتھ تنازع کے بار بار دہرائے جانے والے مراحل تک پہنچ گئے ہیں، جو نتن یاہو کی ناکامی کی وسعت کا واضح مظہر ہے۔انہوں نے مزید تنبیہ کی کہ نتن یاہو کے پاس اس طرح کی مہم چلانے کے لیے درکار عوامی اعتماد نہیں ہے، نہ ان کے پاس اخلاقی جواز ہے اور نہ ایسا کرنے کی بنیادی صلاحیت، یہ ایران کا سامنا کرنے کے حوالے سے ان کا اشارہ تھا۔