بڈگام/ جموں و کشمیر کی سیاست میں آج بڈگام پر سب کی نظریں مرکوز ہیں، جہاں سرینگر سے نیشنل کانفرنس کے رکنِ پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی کی جانب سے پارٹی اور لوک سبھا کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان متوقع ہے۔ وہ یہ اعلان اپنے والد آغا سید مہدی کی برسی کے موقع پر بہشتِ زہرا پارک میں منعقد ہونے والے عوامی اجتماع کے دوران کر سکتے ہیں۔
روح اللہ مہدی کے ممکنہ فیصلے نے جموں و کشمیر کی سیاسی فضا میں نئی قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے، جبکہ سرینگر پارلیمانی حلقے میں ضمنی انتخاب کے امکانات بھی زیرِ بحث آنے لگے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی کشمیر نیوز آبزرور (کے این او) کے مطابق، روح اللہ مہدی نے اپنے ممکنہ فیصلے کی وجہ نیشنل کانفرنس کی قیادت کے ساتھ نظریاتی اختلافات اور پارٹی کی جانب سے انتخابی وعدوں کو پورا نہ کرنے کو قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق آرٹیکل 370 کی بحالی، آئینی حقوق کا تحفظ، ریزرویشن سے متعلق خدشات کا ازالہ اور قیدیوں کی رہائی جیسے اہم معاملات پر پارٹی اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے۔
اگر روح اللہ مہدی باضابطہ طور پر استعفیٰ پیش کرتے ہیں اور لوک سبھا اسپیکر اسے منظور کر لیتے ہیں تو سرینگر کی پارلیمانی نشست خالی ہو جائے گی، جس کے بعد موجودہ قوانین اور مقررہ آئینی و قانونی ضوابط کے تحت ضمنی انتخاب کرانا ضروری ہوگا۔
سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ آیا روح اللہ مہدی آزاد امیدوار کی حیثیت سے دوبارہ انتخابی میدان میں اتریں گے۔ اگر وہ ایسا فیصلہ کرتے ہیں تو نیشنل کانفرنس اور روح اللہ مہدی کے درمیان براہِ راست مقابلے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں روح اللہ مہدی نے سرینگر پارلیمانی نشست پر 3 لاکھ 56 ہزار 866 ووٹ حاصل کرکے کامیابی درج کی تھی، جبکہ ان کے قریبی حریف پی ڈی پی امیدوار وحید الرحمٰن پرہ کو ایک لاکھ 68 ہزار 450 ووٹ ملے تھے۔ اس طرح روح اللہ مہدی نے ایک لاکھ 88 ہزار 416 ووٹوں کے بھاری فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔
تاہم، اگر ضمنی انتخاب ہوتا ہے تو سیاسی منظرنامہ مختلف ہو سکتا ہے، بالخصوص اس صورت میں جب روح اللہ مہدی نیشنل کانفرنس کی تنظیمی حمایت کے بغیر میدان میں اتریں۔ دوسری جانب نیشنل کانفرنس کے سامنے اپنی پارلیمانی نشست برقرار رکھنے کا چیلنج ہوگا، جبکہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتی ہیں۔
آج کا اجتماع روح اللہ مہدی کے مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل کے حوالے سے بھی اہمیت کا حامل ہے۔ وہ مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے اختلافات ذاتی نوعیت کے نہیں بلکہ سیاسی اور نظریاتی بنیادوں پر ہیں اور ان کا کسی عہدے سے محرومی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
روح اللہ مہدی نے منتخب حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ہارس ٹریڈنگ کی کسی بھی کوشش کی مخالفت بھی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت کو اپنی پانچ سالہ آئینی مدت مکمل کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔
اس تمام صورتحال کے جموں و کشمیر کی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ روح اللہ مہدی اپنے سیاسی مستقبل کے لیے کون سا راستہ اختیار کرتے ہیں اور کیا وہ کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے مقابلے میں ایک قابلِ اعتماد سیاسی متبادل پیش کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں؟ واضح رہے کہ 2024 کے اسمبلی انتخابات میں نیشنل کانفرنس مخالف جماعتوں کو انتخابی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی تھی۔