’میگی‘ فروخت کرکے 15000 روپے روزانہ کمانے والا نوجوان

میگی فروخت کرکے 15000 روپے روزانہ کمانے والے نوجوان نے انٹرنیٹ کو حیران کردیا ہے۔

تصور کریں کہ آپ ’میگی‘ (نوڈلز) بیچ کر لاکھوں کماتے ہیں! جی ہاں بالکل! آن لائن شیئر کی گئی ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو گئی جس کی واحد وجہ ایک شخص کی روزانہ کی حیران کن حد تک زیادہ کمائی تھی۔

یہ کلپ ایک ہائیکر (پیدل سفر کرنے والے) نے شیئر کیا ہے جو مبینہ طور پر ’روہتانگ پاس‘  پر ٹریکنگ کر رہا تھا جب اس کی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو اتنی بلندی پر میگی اور چائے بیچ رہا تھا، ہائیکر، ہرش چوہان نے میگی بیچنے والے سے اس کی کمائی کے بارے میں بات چیت کی جسے سن کر وہ دنگ رہ گیا۔

اس نے بتایا کہ ’آف سیزن‘ (جب سیاحوں کی آمد کم ہوتی ہے) تو اس دوران وہ شخص میگی کی 60 سے 70 پلیٹیں جن میں سے ہر ایک کی قیمت 100 روپے تھی اور تقریباً 200 کپ چائے (جن میں سے ہر ایک کی قیمت 40 روپے تھی) فروخت کر رہا تھا۔ آف سیزن میں اس شخص کی روزانہ کی آمدنی کا حساب لگانے کے بعد ہائیکر نے نتیجہ اخذ کیا کہ وہ روزانہ تقریباً 8,000 روپے کما رہا ہے۔

ویڈیو میں اس شخص نے کہا کہ میں نے اس آدمی سے پوچھا کہ وہ کتنا کماتا ہے جس پر اس نے بتایا کہ چونکہ یہ آف سیزن ہے اس لیے ان مہینوں میں زیادہ کمائی نہیں ہوتی پھر میں نے پوچھا کہ آف سیزن میں وہ کتنا کما لیتا ہے؟ اس نے بتایا کہ وہ میگی کی تقریباً 60 سے 70 پلیٹیں اور تقریباً 200 کپ چائے بیچ لیتا ہے، اب اگر آپ اس کا حساب لگائیں میگی 100 روپے کی اور چائے 40 روپے کی تو اس کی روزانہ کی آمدنی 8,000 روپے بنتی ہے اور یہ اس کی ’آف سیزن‘ کی کمائی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ کوئی بھی کاروبار چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا۔

رپورٹ کی  آزادانہ طور پر ان تفصیلات یا اس پوسٹ کی صداقت کی تصدیق نہیں ہوسکی لیکن روہتانگ پاس گئے اور وہاں ’میگی‘ (نوڈلز) بیچنے والے سے پوچھا کہ ’آف سیزن‘ (جب سیاحوں کی آمد کم ہوتی ہے) میں اس کی کتنی کمائی ہو جاتی ہے۔

اس نے بتایا کہ وہ تقریباً اتنا فروخت کر لیتے ہیں:

60 سے 70 پلیٹ میگی — 100 روپے فی پلیٹ

تقریباً 200 کپ چائے — 40 روپے فی کپ

اس کا مطلب یہ ہے کہ ’آف سیزن‘ میں بھی، روزانہ کی تخمینی فروخت تقریباً 14,000 سے 15,000 روپے بنتی ہے!

اور یہ تو صرف ’آف سیزن‘ کی بات ہے… ذرا سوچیں کہ سیاحوں کے عروج کے موسم  میں کتنی کمائی ہوتی ہوگی!“ پوسٹ میں لکھا تھا۔

یہ پوسٹ انسٹاگرام پر ’ڈاکٹر آکانکشا سنگھ‘  نامی ہینڈل سے شیئر کی گئی اسے 3 دن پہلے پوسٹ کیا گیا تھا اور اسے انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے 6 ہزار سے زائد بار دیکھا گیا ہے۔

ایک صارف نے کہا، ”یہاں نقل و حمل (ٹرانسپورٹ) بہت مہنگی ہے، اس کے علاوہ یہاں کے موسمی حالات بھی بہت سخت ہیں۔“ ایک اور شخص نے مزید کہا، ”ذرا اس جگہ کو تو دیکھیں جہاں وہ میگی بیچ رہا ہے؛ اسے یقیناً دیگر اخراجات بھی برداشت کرنے پڑتے ہوں گے۔“

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں