واشنگٹن( آن لائن )امریکی میڈیا بھی بھارتی مسلمانوں پر مظالم اور نفرت انگیز واقعات کے خلاف بول اٹھا۔امریکی میڈیا کے مطابق کورونا وائرس کی آڑ میں بھارت میں مذہبی منافرت کو ہوا دی جا رہی ہے۔امریکی اخبار نے لکھا کہ اتر پردیش میں مسلمان سبزی فروشوں کو شکایت ہے کہ آر ایس ایس کے انتہا پسند لوگوں کو ان سے خریداری نہیں کرنے دیتے بلکہ افواہ پھیلاتے ہیں کہ مسلمان کوروناوائرس پھیلاتے ہیں۔نئی دہلی میں دودھ بیچنے والے مسلمان دکاندار محمد حیدر کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو ہر طرف سے خوف نے گھیر رکھا ہے، ہندو انتہا پسند معمولی باتوں کا بہانہ بنا کر مسلمانوں کے ساتھ مار پیٹ کرتے ہیں۔بار بار کورونا کو مسلمانوں سے جوڑنے پر سماجی کارکن کویتا کرشنان نے بھارتی میڈیا اینکروں کو آڑے ہاتھوں لیا۔ کہتی ہیں کہ تاریخ کے صفحوں میں ان لوگوں کو نفرت پھیلانے والا لکھا جائے گا۔ کورونا کو مذہب سے جوڑنا شرمناک ہے۔دوسری جانب متحدہ عرب امارات میں بھی بھارتی اتنہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا سلسلہ جاری ہے۔ دبئی کی ایک کمپنی نے اپنے بھارتی چیف اکانٹنٹ کو مسلم مخالف پوسٹ لگانے پر نوکری سے فارغ کر دیا۔ ایک ہفتے کے دوران بھارتیوں کو نوکری سے نکالے جانے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- بڑھتی مہنگائی، بڑھتا قرض، گھٹتی کمائی، مودی حکومت میں متوسط طبقے کے حصے میں آئی صرف تباہی: جے رام رمیش
- ٹرینوں میں رات 11 بجے سے صبح 5 بجے تک نہیں کیا جا سکے گا موبائل چارج، ریلوے نے جاری کی ہدایت
- جنسی ہراسانی معاملہ: عدالت نے برج بھوشن شرن سنگھ کو جواب داخل کرنے کا آخری موقع دیا
- ’حکومت ہی فیصلہ کرے گی‘، مردم شماری میں او بی سی ذاتوں کی الگ فہرست کے مطالبے پر سپریم کورٹ کا تبصرہ
- ہردیپ پوری پھر جائیں گے راجیہ سبھا، بی جے پی نے مدھیہ پردیش سے بنایا امیدوار