انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکی نے لیبیا میں جنگ بندی کے لیے مصر کی پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کوشش باغی ملیشیا کے کمانڈر خلیفہ حفتر کو بچانے کی کوشش ہے۔ لیبیا میں طویل عرصے سے اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ قومی وفاق حکومت کی فوج اور باغیوں کے مابین شدید لڑائی جاری ہے۔ اس دوران حفتر ملیشیا کی جانب سے دارالحکومت طرابلس پر قبضے کے لیے کئی بار ہوائی اڈے سمیت دیگر مقامات پر حملے کیے جا چکے ہیں جب کہ سرکاری فوج نے پیش قدمی کرتے ہوئے کئی علاقے روس، امارات اور مصر کے حمایت یافتہ باغیوں کے قبضے سے آزاد بھی کرا لیے ہیں۔ خلیفہ حفتر کی ملیشیا کے پسپائی کے بعد مصر نے تجویز دی ہے کہ جنگ بندی کے ساتھ لیبیا میں حکومت سازی کے لیے ایک منتخب کونسل تشکیل دی جائے۔ روس اور امارات نے مصری مطالبے کی حمایت کی ہے، تاہم ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اولو نے اسے مسترد کرتے ہوئے طرابلس میں خلیفہ حفتر کی باغی ملیشیا کو بچانے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جنگ بندی قاہرہ کی مرضی سے نہیں ہو گی بلکہ اس کے لیے تمام فریقوں کی رضا مندی اور مناسب پلیٹ فارم ضروری ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے زیرنگرانی لیبیا میں متحارب فریقین کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور کا آغاز ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق عالمی ادارے کے مطابق دونوں جانب سے 5، 5نمایندوں پر مشتمل کمیٹی نے خوشگوار ماحول میں بات چیت کی۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- پنجاب: شہر ترن تارن میں کار میں سوار نوجوانوں پر فائرنگ میں ایک شخص جاں بحق
- کانگریس نےناگپور ایم ایل سی انتخاب جیتا، ابھیجیت ونجاری نے کیا قبضہ
- دہلی-این سی آر میں صبح سویرے بدلا موسم کا مزاج، کہیں ہوئی ہلکی بوندا باندی تو کہیں تیز بارش
- ایم ایل سی انتخابی نتائج بی جے پی کے لیے بھی فکر انگیز، پی ایم مودی کے پارلیمانی حلقہ میں شکست پر کانگریس نے کیا طنز
- بہار: بیگوسرائے میں لوگوں سے بھری کشتی دریائے ڈھاب میں پلٹی، 2 افراد لاپتہ، 4 زخمی