ایتھنز (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی یونین کے رکن ممالک مہاجرین سے متعلق ایک نیا معاہدہ طے کرنا چاہتے ہیں جب کہ دوسری جانب لیسبوس میں قائم کیے گئے نئے کیمپ کے حالات کو مہاجرین نے غیر انسانی قرار دیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق موریا کیمپ میں آتش زدگی کے بعد ہزاروں مہاجر کھلے آسمان تلے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ آگ لگنے کے باعث بے گھر ہونے والے تقریباً 13 ہزار تارکین وطن لیسبوس شہر کی سڑکوں پر مارے مارے پھرتے رہے۔ اس دوران ایک نیا کیمپ آر آئی سی لیسبوس تعمیر کرکے انہیں منتقل کیا گیا ہے تاہم وہاں کے حالات بھی انتہائی بدتر بتائے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق نئے کیمپ کو بحیرہ ایجیئن نے گھیر رکھا ہے۔ یہاں پہنچنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ سمندر بہت نزدیک ہے اور یہ بچوں کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ اُدھر طبی امداد فراہم کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کا کہنا ہے کہ نیا کیمپ موریا سے بھی کم درجے کا حامل ہے۔تنظیم سے وابستہ کیرولین ویلمین کے مطابق یہاں کا موسم شدید ہے اور بارش کے دوران سب ڈوب سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کو نئے کیمپ کے مکینوں کی عزت اور ذہنی صحت کی فکر ہے۔ یہ جگہ موریا کیمپ سے بھی بدتر ہو سکتی ہے اور اس حوالے سے تمام امیدیں دم توڑتی جا رہی ہیں۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- آندھرا اور اڈیشہ میں ’ارنب‘ سے ہونے والی تباہی پر کانگریس کا اظہار افسوس، مودی حکومت سے متاثرین کی فوری مدد کا مطالبہ
- دلارچند یادو قتل واقعہ میں اننت سنگھ کو مشکلات کا سامنا، سپریم کورٹ نے خودسپردگی کا دیا حکم
- چھتیس گڑھ کے اسکول میں طلبا کے درمیان آسارام کی کتابیں ہوئیں تقسیم، شکایت کے بعد پرنسپل ہٹائے گئے
- چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف انڈیا بلاک کا ’عوامی مواخذہ‘ پروگرام ایک دن کے لیے ملتوی!
- اتر پردیش میں ’فارم-7‘ کے ذریعہ ووٹرز کا نام حذف کرنے کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچا، دستاویزات پیش کرنے کا حکم