لاہور(جسارت نیوز)پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)کے چیف ایگزیکٹو آفیسر وسیم خان کو یقین ہے کہ آئندہ 2 سال میں دنیا کی ٹاپ ٹیمیں پاکستان کا دورہ کریں گی ۔وسیم خان نے مداحوں پر بھی زور دیا کہ وہ بھارت کے خلاف دوطرفہ سیریز کھیلنے کے بارے میں فکر کرنا چھوڑ دیں کیونکہ موجودہ سیاسی ماحول میں اس کا امکان نہیں ہے۔وسیم خان کا کہنا تھا کہ ہمیں فی الحال بھارت سے سیریز کا خواب دیکھنا چھوڑ دینا چاہیئے کیوں کہ جب تک بھارت میں نریندر مودی کی حکومت ہے اس وقت تک دو طرفہ سیریز ہونے کے امکانات مدھم رہیں گے۔ بی سی سی آئی کو پاکستان کھیلنے سے پہلے بھارت کی حکومت سے اجازت لینا ہوگی اور یہ ایک حقیقت ہے کہ مودی سرکار کے پاکستان کے بارے میں خیالات کو دیکھتے ہوئے اس بات کا زیادہ امکان نہیں ہے کہ مستقبل قریب میں پاکستان بھارت سے کھیلے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی کرکٹ شائقین کے لئے میرا پیغام یہ ہے کہ ہم نے اب تک بہت کچھ حاصل کیا ہے اور اب بھی بہت محنت کرنا باقی ہے لیکن پاکستان کرکٹ کے پاس بھارت سے کھیلنے کی فکر کرنے کے علاوہ بھی اور بھی بہت کچھ سوچنے کو ہے ۔ وسیم خان کو امید ہے کہ مستقبل قریب میں انگلینڈ ، جنوبی افریقا، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا پاکستان کا دورہ کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم 2022 میں انگلینڈ کا استقبال کرنے کے منتظر ہیں ، جنوری 2021 میں ہم جنوبی افریقااور اس کے بعد نیوزی لینڈ جبکہ 2022 میں آسٹریلیا بھی آئیگا ۔ ہمارے لیے آئندہ2 سال بہت اہم ہیں ،ایم سی سی کے دورے سے کائونٹی کرکٹ کی ٹیموں کے پاکستان کے دورے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ ہم مستقبل میں اے ٹیموں کو بھی پاکستان لانے کے لیے کام کررہے ہیں ۔وسیم خان کا کہنا تھا کہ 4بڑی ٹیموں کے دورہ پاکستان کے بعد ہم یہ کہہ سکیں گے کہ پی سی بی نے اس بارے میں بہت محنت کی ہے ۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- آندھرا اور اڈیشہ میں ’ارنب‘ سے ہونے والی تباہی پر کانگریس کا اظہار افسوس، مودی حکومت سے متاثرین کی فوری مدد کا مطالبہ
- دلارچند یادو قتل واقعہ میں اننت سنگھ کو مشکلات کا سامنا، سپریم کورٹ نے خودسپردگی کا دیا حکم
- چھتیس گڑھ کے اسکول میں طلبا کے درمیان آسارام کی کتابیں ہوئیں تقسیم، شکایت کے بعد پرنسپل ہٹائے گئے
- چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف انڈیا بلاک کا ’عوامی مواخذہ‘ پروگرام ایک دن کے لیے ملتوی!
- اتر پردیش میں ’فارم-7‘ کے ذریعہ ووٹرز کا نام حذف کرنے کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچا، دستاویزات پیش کرنے کا حکم