برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) معروف جرمن مؤرخ وولفگانگ بینز نے انکشاف کیا ہے کہ جرمنی میں مسلمانوں کو خوف میں مبتلا کرکے پیچھے کیا جارہا ہے۔ بینز نے کہا کہ جرمنی کو ایک عیسائی یہودی مغربی ملک قرار دے کر مسلمانوں کو پرے دھکیلا جارہا ہے۔ وولفگانگ بینز دارالحکومت برلن میں سامیت دشمنی کے خلاف قائم تحقیقی مرکز کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ملک میں معاشرتی تبدیلیوں کا تاریخی جائزہ لیا جائے، تو یورپی یونین کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں مسلمانوں سے متعلق غلط اصطلاحات استعمال کی گئیں۔ بینز نے کہا کہ جرمن معاشرے میں اسلام مخالف اور عیسائی یہودی مغربی ریاست جیسی اصطلاحات اس لیے گھڑی گئیں تاکہ سماجی طور پر مسلمانوں کے اثر و رسوخ کو محدود رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک تاریخی خیانت ہے کہ ماضی میں عیسائیوں اور یہودیوں کے درمیان ریاستی سطح پر کبھی کوئی قدر مشترک رہی ہے۔ عیسائیوں نے 2ہزار سال تک یہودیوں کے لیے زندگی کو اجیرن بنائے رکھا، تو اب ان میں بھائی چارے کو تاریخی قرار دینے کا کیا مطلب ہے۔ جرمنی میں سازش کے تحت سامیت دشمنی اور اسرائیل پر تنقید کو آپس میں گڈ مڈ کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ جرمنی میں اسلام پر تنقید کرتے ہیں، وہ ایسا اپنی منفی سوچ کی وجہ سے کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- آندھرا اور اڈیشہ میں ’ارنب‘ سے ہونے والی تباہی پر کانگریس کا اظہار افسوس، مودی حکومت سے متاثرین کی فوری مدد کا مطالبہ
- دلارچند یادو قتل واقعہ میں اننت سنگھ کو مشکلات کا سامنا، سپریم کورٹ نے خودسپردگی کا دیا حکم
- چھتیس گڑھ کے اسکول میں طلبا کے درمیان آسارام کی کتابیں ہوئیں تقسیم، شکایت کے بعد پرنسپل ہٹائے گئے
- چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف انڈیا بلاک کا ’عوامی مواخذہ‘ پروگرام ایک دن کے لیے ملتوی!
- اتر پردیش میں ’فارم-7‘ کے ذریعہ ووٹرز کا نام حذف کرنے کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچا، دستاویزات پیش کرنے کا حکم