ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

کیا اسد درانی را کے ایجنٹ ہیں؟

پاکستان میں وزارت دفاع نے ملک کی فوج کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کے بارے دائر درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں جواب جمع کردایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کے ’انڈین خفیہ ادارے را کے ساتھ سنہ 2008 سے تعلقات ہیں۔اس جواب میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اسد درانی ’ملک دشمن سرگرمیوں میں بھی ملوث ہیں‘۔ وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اسی بنیاد پر ان کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا جاسکتا، جس کی وجہ سے وہ ملک سے باہر قدم نہیں رکھ سکتے۔تاہم اسد درانی ان الزامات کو ماضی میں کئی بار مسترد کر چکے ہیں۔واضح رہے کہ انھوں نے انڈین خفیہ ادارے را کے سابق سربراہ اے ایس دلت کے ساتھ ایک کتاب لکھی تھی جس میں پاکستانی حکام کے بقول ایسا مواد بھی شامل تھا جو کہ پاکستان کی قومی سلامتی سے متعلق ہے۔

اس سے قبل سیاسی شخصیت یا مختلف محکموں میں‌کام کرنے والے کئی افسران پر اس طرح کے الزامات لگتے رہے ہیں مگر پاکستانی تاریخ کا یہ واحد واقع ہے جس میں ایک تھری سٹار جنرل پر یہ الزام لگا ہے اور یہ جنرل نہ صرف پاکستان کے خفیے ادارے کی سربراہی کے ساتھ ساتھ فوج میں 32 سال سروس بھی کی ہے اور اس بات سے بہت سارے خدشات نے جنم لیا ہے۔ انہوں نے کچھ عرصہ قبل بھارت کی سابق اینجسی را کے سربراہ اے ایس دلت کے ساتھ مل کر ایک کتاب” دی سپائی کرونیکلز ” لکھی تھی جس پر بہت سارے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا تاہم انہوں نے اس پر ہی بس نہیں کی بلکہ حال ہی میں ایک نئی کتاب آنر امنگ سپائیز لکھی ہے جس پر پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ پر ڈھکے چھپے انداز میں شدید طنز کیا گیا ہے۔

وزارت دفاع نے عدالت میں اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نے انڈین را کے سابق سربراہ کے ساتھ کتابیں لکھ کر آفیشل سیکرٹ ایکٹ سنہ 1923 کی بھی خلاف ورزی کی ہے اور اس جرم پر قانونی کارروائی آرمی ایکٹ کے تحت کی جاتی ہے۔اس جواب میں آرمی ایکٹ سنہ 1952 کا بھی حوالہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ درحواست گزار تو فوج میں رہے ہیں لیکن اگر کوئی سویلین بھی ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہو جس سے ملکی مفاد کو خطرہ ہو تو اس ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی کے تحت اس کا بھی کورٹ مارشل ہوسکتا ہے۔اس جواب میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کے خلاف تحقیقات آخری مراحل میں ہیں اور ایسے مرحلے پر ان کا نام ای سی ایل سے نھیں نکالا جاسکتا۔

اسد درانی کے خلاف شاید کارروائی ہوتی تاہم ایک طویل عرصے سے میاں نواز شریف پر بھارتی ایجنٹ اور مودی کا یار ہونے کا الزام عائد ہوتا رہا اور اس کے پس منظر میں نواز شریف اور مودی کی ملاقاتیں اور ساڑھیوں کا تبادلہ اور پھر خاص طور پر نواز شریف کی بھارت کے ایک بڑے تاجر سجن جندال سے الگ تھلگ ملاقات کا تذکرہ بھی کیا جاتا رہا ہے اور اس بات پر موجودہ حکومت نے اپنی سیاسی مہم بھی چلائی۔ تاہم دوسری طرف جب جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کی کتاب سامنے آئی تو ن لیگ کے کیمپ اور ن لیگ کے حمایتی صحافیوں نے اس بات پر سوالات اٹھانے شروع کر دیے کہ اگر نواز شریف بھارت کا ایجنٹ ہے تو پھر اسد درانی کیوں نہیں ہے کیونکہ اپنی کتاب ” دی سپائی کرونیکلز” میں انہوں نے ایسے ایسے انکشافات کیے ہیں جو قومی سیکورٹی کے زمرے میں آتے ہیں۔ پس یہی وجہ ہے کہ فوج اس تاثر کو دور کرنا چاہتی ہے کہ یہاں دو دو قانون ہیں۔ اسد درانی کے خلاف کارراوئی سے میاں نواز شریف کے حامی کیمپ کو چپ کرانا بھی مقصود ہے اور فوج کو بطورمنظم ادارہ ثابت کرنا بھی ہے۔

تاہم یہ بات بڑی خوش آئند تھی کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی جنرل نے کتابیں لکھنے کا کام کیا ہے اس سے قبل ایسی کوئی روایت نہیں ملتی۔ حالانکہ دنیا بھر میں فوج میں کام کرنے والے اعلی عہدیدار کتابیں لکھتے رہے ہیں ۔ حتی کہ پینٹا گون اور سینٹ کام کے جنرل بھی کتابیں لکھتے ہیں اور لکھتے رہے ہیں اور یہ ایک اچھا فعل ہے جس سے کم از کم قوم کو پتا چلتا ہے کہ کسی خاص واقع کے وقت کیا حالات تھے اور کون سے فیصلے کس وجہ سے لیے گئے۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ جنرل اسد درانی کی کتاب کے مواد سے اختلاف ہوسکتا ہے اور اس بات سے بھی اختلاف ہوسکتا ہے کہ انہوں نے ایک بھارتی خفیہ ایجنسی کے چیف کے ساتھ مل کر کتاب لکھی جو کہ کم از کم پاکستان کے کے حوالے سے کوئی خوش آئند فعل نہیں تھا۔ مگر دوسری جانب سوال یہ بھی ہے کہ جنرل اے ایس دلت نے بھی تو کتاب لکھی ہے اور انہوں نے بھارت کی حساس ترین رگ یعنی کشمیر پر مودی کے مؤقف کی سختی سے نفی کی ہے اور کہا ہے اس طرح کشمیریوں کو دبا کر نہیں رکھا جاسکتا مگر وہاں کوئی شور نہیں مچا حالانکہ توقع یہی تھی کہ وہاں سب سے زیاد شور ہوگا۔

تاہم اہم بات یہ ہے کہ بہت سارے معاملات صرف ایجنسیز کو معلوم ہوتے ہیں اور وہ اس معاملے میں بہتر جانتے ہیں کہ ان کے کس فعل کے پیچھے کیا منطق ہے۔ یقینا پاکستانی کی ایجنسیز اس قدر غیر منطقی نہیں ہوسکتیں کہ محض چند کتابیں لکھنے پر اپنے ہی سابق چیف پر اسطرح کا الزام لگا دیں۔ مگر اب یہ تو جب تک تحقیقات نہیں ہوتیں تب تک کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ مگر اس عمل سے ایک بات ضرور ہے کہ نواز شریف کیمپ کے منہ ضرور بند ہوجائیں گے اور ان کے پاس پاکستان کی سیکورٹی فورسز پر دوبارہ سوال اٹھانے کی کوئی وجہ نہیں بچے گی۔

جمعتہ المبارک، 29 جنوری، 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 

 

 

 

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں